ہندوبرادری کی زمینوں پر قبضہ سے متعلق کیس، خورشید شاہ کے نام کی سپریم کورٹ میں گونج

پبلک نیوز: سندھ میں ہندوبرادری کی زمینوں پر قبضے کے معاملے پر سپریم کورٹ میں پیپلزپارٹی کے سینئیر رہنما سید خورشید شاہ کے نام کی گونج، تحریک انصاف کے رہنما نے عدالت کو بتایا کہ زمینوں پر قبضہ میں خورشید شاہ کا نام آ رہا ہے۔ غیر حاضری پر ایڈووکیٹ جنرل سندھ کو 25 ہزار روپے ڈیم فنڈ میں جمع کرانے کا حکم۔

تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سندھ میں ہندو برداری کی زمین پر قبضہ سے متعلق کیس کی سماعت کی۔ تحریک انصاف کے رہنماء رمیش کمارعدالت میں پیش ہوئے۔ چیف جسٹس نے ہندوبرادری کی زمینوں پر قبضے سے متعلق پوچھا تو رمیش کمار نے انکشاف کیا کہ اطلاعات کے مطابق قبضہ کرنے والوں میں خورشید شاہ کا نام بھی شامل ہے.

جس پرچیف جسٹس نے وضاحت چاہی تو رمیش کمارنے دوبارہ بتایا کہ جی ہاں قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈرخورشید شاہ کا نام آ رہا ہے۔

رمیش کمار نے عدالت کو بتایا کہ لاڑکانہ ڈوژن کی رپورٹ فائنل ہو چکی ہے جہاں دھرم شالہ،گئو شالہ اور شمشان گھاٹ پر بھی قبضہ ہے۔ بھگوان داس کی زمین پر قبضہ غیر رجسڑڈ پاور آف اٹارنی کے ذریعہ ہوا۔ ڈومکی، مزاری اور شاہ سبھی نے ہندوں کی زمینوں پر قبضہ کر رکھا ہے۔

سندھ حکومت نے جانب سے مقدمہ کے التوا کی درخواست کی۔ عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل سندھ کی غیرحاضری پر برہمی کا اظہارکرتے ہوئے پچیس ہزارروپے جرمانہ عائد کر دیا۔ ڈیم فنڈ میں جمع کرانے کی ہدایت بھی کردی گئی، عدالت کے کیس کی سماعت پیر تک ملتوی کردی۔

احمد علی کیف  2 ہفتے پہلے

متعلقہ خبریں