سپریم کورٹ کا خلاف ضابطہ بھرتیوں کا کیس نیب کو بھجوانے کا عندیہ

اسلام آباد(پبلک نیوز) سپریم کورٹ نے خلاف ضابطہ بھرتیوں کا معاملہ نیب کو بھجوانے کا عندیہ دے دیا۔ عدالت نے ایف آئی اے اور اینٹی کرپشن افسروں کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا۔ جسٹس شیخ عظمت سعید نے ریمارکس دیئے کہ چاول کے ایک دانے سے دیگ کا علم ہو جاتا ہے۔ حکومت سمجھتی ہے معذوروں کو پوچھنے والا کوئی نہیں۔

 

جسٹس عظمت سعید کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی، دوران سماعت درخواست گزار نے دلائل دیئے کہ من پسند افراد کو نوازنے کیلئے معذوروں کے کوٹے پر بھرتی کیا جاتا ہے، اونچا سننے والے کو بھی معذور قرار دے کر نوکری دی جاتی ہے، خیبرپختونخوا میں ایسے کئی افراد کو بھرتی کیا گیا۔ حق دار شکایات کریں تودربدر کی ٹھوکریں ملتی ہیں۔

 

جسٹس فیصل عرب نے ریمارکس دیئے کہ قومی اسمبلی سیکریٹریٹ میں بھی معذور کوٹے پر بھرتیاں ہوئیں، ایک شخص کو ٹانگ کمزور اور ایک کو نظر منفی دو ہونے پرنوکری دی گئی، جسٹس شیخ عظمت سعید نے کہا کہ لگتا ہے سارا کام ہی جعلی ہے۔ تاثر مل رہا ہے کہ بھرتیاں شفاف نہیں ہوئیں۔ سرکاری افسروں کو کوئی خوف نہیں، کیوں نہ کیس نیب کو بھجوا دیا جائے۔ فوجداری کارروائی کی مخالفت کرتے ہوئے سرکاری وکلا کا کہنا تھا کہ قواعد کی خلاف ورزی کی نشاندہی کی جائے تو داد رسی کریں گے، عدالت نے کیس کی سماعت بیس جون تک ملتوی کر دی۔

عطاء سبحانی  3 ہفتے پہلے

متعلقہ خبریں