سپریم کورٹ نے اغواء برائے تاوان کے تین ملزمان کو بری کر دیا

اسلام آباد (امجد بھٹی) اگر ڈرتے ہیں تو انصاف نہ مانگیں، اغواء برائے تاوان کے تین ملزم بری، چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اللہ کا حکم ہے کہ سچی گواہی کے لئے سامنے آجاؤ۔ تاوان وصولی سے متعلق ٹیلی فون کالز کا ریکارڈ پیش نہیں کیا گیا۔

 

چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کے جھوٹے گواہوں سے متعلق اہم ریمارکس دیئے، سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ایسے واقعات میں صحیح گواہان پیش نہیں ہوتے۔

 

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ کیا سرکار پاکستان یہ کہہ رہی ہے کہ جھوٹے گواہوں کے خلاف کارروائی کی جائے، لوگ اگر ڈرتے ہیں تو انصاف نہ مانگیں، اللہ کا حکم ہے کہ سچی گواہی کے لئے سامنے آ جاؤ، اللہ کا حکم ہے کہ اپنے خلاف، اپنے والدین اور عزیز و اقارب کے خلاف بھی اللہ کے لئے گواہ بن جاؤ۔

 

 

عدالت نے ریمارکس دیئے کہ مغوی محمد صدیق کی بازیابی پولیس کے ذریعے نہیں ہوئی، بازیابی کے چھے ماہ بعد ایف آئی آر درج کرائی گئی، چیف جسٹس نے کہا کہ ایف آئی آر کا دیر سے اندارج صحت کی خرابی قرار دیا گیا، تاوان وصولی سے متعلق ٹیلی فون کالز کا ریکارڈ بھی ٹرائل کورٹ میں پیش نہیں کیا گیا، ملزموں کی شناخت بھی اوپن کورٹ میں کی گئی۔ 

 

عدالت نے شک کا فائدہ دیتے ہوئے تینوں ملزموں کو بری کر دیا۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ مغوی چھ ماہ بعد بھی شامل تفتیش نہیں ہوا۔ مغوی نے چھ ماہ تک شامل تفتیش نہ ہونے کا کوئی عزر پیش نہیں کیا۔ عدالت نے ملزموں کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے سزائیں ختم کرتے ہوئے بری کر دیا۔

 

ملزم نصیر احمد،مظہر حسین، اور اسد علی کے خلاف تاوان کے لئے محمد صدیق کے اغواء کا الزام تھا۔ ٹرائل کورٹ نے اسد علی کو سزائے موت دیگر دو ملزموں کا عمرقید کا حکم دیا تھا۔ لاہور ہائی کورٹ نے اسد علی کی سزائے موت کو عمر قید اور دیگر دو کی سزا کو برقرار رکھا تھا۔

عطاء سبحانی  4 ہفتے پہلے

متعلقہ خبریں