سپریم کورٹ نے ملک بھر کے شہری علاقوں میں پٹوار خانے بند کرنے کا حکم دے دیا

اسلام آباد(پبلک نیوز) سپریم کورٹ نے ملک بھر کے شہری علاقوں میں پٹوار خانوں کے حوالے سے کیس کی سماعت، عدالت نے قرار دیا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ دنیا چاند پر چلے گی، یہاں ریکارڈ کمپیوٹرائزڈ کیوں نہیں ہوسکتا، پٹوار خانوں نے لٹ مچائی ہوئی ہے۔


چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی، دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ جہاں لینڈ ریونیو کا کوئی تخمینہ نہیں وہاں پٹوار جانے کیسے کھلے ہیں۔ سپریم کورٹ بار کے صدر امان اللہ کنرانی نے عدالت کو بتایا کہ قانون کی تشریح کا معاملہ ہے، چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ ان کا ہی فیصلہ ہے۔ اس معاملے سے متعلق، پٹوار خانے بند کر دئیے ہیں، حکومت کو دھیلا بھی نہیں ملے گا۔


پنجاب حکومت کے وکیل نے بتایا کہ دیہی علاقوں میں زمین کی فروخت زبانی ہوئی ہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ شاہد آج عدالت زمین کی زبانی فروخت بند کر دے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا چاند پر چلی گئی ہے، یہاں ریکارڈ کمپیوٹرائزڈ کیوں نہیں ہوسکتا، ریونیوحکام نے بتایا کہ خسرہ نمبر سے زمین منتقل ہوتی ہے، جسٹس اعجازالاحسن نے پوچھا کہ ریکارڈ کہاں سے آجاتا ہے۔ شہروں میں تو ماسٹر پلان ہوتا ہے، جو علاقے ماسٹر پلان میں نہیں آتے وہاں زمین کی فروخت ایسے ہوتی ہے، چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ شہری علاقوں میں لینڈ ریونیو کا ریکارڈ ہے وہاں پٹوار خانوں کی کیا ضرورت ہے، پٹوار خانوں نے لٹ مچائی ہوئی ہے۔


سپریم کورٹ نے شہری اور سیٹلڈ ایریا میں پٹوار خانے کا کردار محدود کردیا۔ عدالت نے حکم دیا کہ پٹوار خانے صرف ریکارڈ رکھنے کے کام آئیں گے، پٹوار خانوں کا اب زمینوں کے انتقال میں کوئی کردار نہیں ہو گا، شہری علاقوں میں زبانی انتقال بھی نہیں ہوگا، جائیداد کا انتقال صرف لینڈ ریوینیو ایکٹ کے تحت ہی ہو گا، جہاں لینڈ ریونیو ایکٹ نافذ العمل ہے وہاں پٹواری کا کردار مکمل ختم ہوگیا۔ عدالت نے حکم دیا ہے کہ زمینوں کی خرید وفروخت رجسٹرڈ سیل ڈیڈ کے تحت کی جائیں۔

عطاء سبحانی  1 ہفتے پہلے

متعلقہ خبریں