سپریم کورٹ کراچی رجسٹری نے شہری حکومت کے محکموں کی بجلی کاٹنے سے روک دیا

کراچی(حمزہ گیلانی) سپریم کورٹ کراچی رجسٹری نے کے الیکٹرک کو شہری حکومت کے محکموں کی بجلی کاٹنے سے روک دیا۔ عدالت نے ریمارکس دیئے سندھ حکومت اس شہر کو معمولی شہر کیوں سمجھ رہی ہے؟ یہ شہر اتنا ریونیو دیتا ہے اس کی دیکھ بھال کون کرے گا؟

 

سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں کراچی کی شہری حکومت کے ذمے کے الیکٹرک کے واجب الادا 58 کروڑ سے زائد رقم کے معاملے کی سماعت ہوئی، ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے کہا کہ سندھ حکومت مزید فنڈز نہیں دیتی سکتی۔ کے ایم سی کو اس کے حصے کے فنڈز مل رہے ہیں۔ کے ایم سی اداروں میں ہزاروں جعلی ملازمین ہیں۔ میئر کراچی وسیم اختر نے کہا کہ کوئی جعلی بھرتیاں نہیں، 2009 سے ایک ملازم بھی بھرتی نہیں ہوا، وسیم اختر نے کہا 13 اسپتال چل رہے ہیں، ادویات اور تنخواہوں تک کے پیسے نہیں، ڈاکٹرز کو 4 ماہ سے تنخواہ نہیں دی گئی۔

 

جسٹس مقبول باقر نے ریمارکس دیئے کہ سندھ حکومت اس شہر کو معمولی شہر کیوں سمجھ رہی ہے؟ یہ شہر اتنا ریونیو دیتا ہے اس کی دیکھ بھال کون کرے گا۔۔ سندھ حکومت بتائے کے ایم سی کہاں پیسہ ضائع کر رہی ہے؟ جسٹس سجاد علی شاہ نے کہا کہ اگر شہر کی بجلی کٹ گئی تو احساس ہے کہ شہر کا کیا ہو گا؟ سیکریٹری بلدیات نے کہا کہ شہری حکومت کے سرکاری گھروں تک سے بل نہیں آتا۔

 

جسٹس سجاد علی شاہ نے کہا کہ سیکریٹری صاحب معلوم ہے! یہاں کوئی بھی سرکاری کالونی سے بل لے کر دکھائے۔ یہاں سب ایسے ہی چل رہا ہے۔ سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو میں میئر کراچی نے کہا کہ کراچی ہی سندھ کو چلاتا ہے اور کراچی کے پاس ہی پیسے نہیں ہیں، سندھ حکومت اگر وفاقی فارمولے پر عمل کرلے تو کوئی مسلئہ نہیں رہے گا۔سپریم کورٹ کراچی رجسٹری نے کے الیکٹرک کو شہری حکومت کے محکموں کی بجلی کاٹنے سے روک دیا۔

عطاء سبحانی  1 ہفتے پہلے

متعلقہ خبریں