سپریم کورٹ آف پاکستان جدید ای کورٹ سسٹم کی حامل پہلی عدالت بن گئی

اسلام آباد(پبلک نیوز) سپریم کورٹ آف پاکستان ای کورٹ سسٹم کی حامل دنیا کی پہلی سپریم کورٹ بن گئی، وکلاء کسی بھی جگہ سے ویڈیو لنک کے ذریعے دلائل دے سکتے ہیں، ای کورٹ سسٹم کے تحت پہلے مقدمے کا فیصلہ، قتل کے ملزم کی ضمانت قبل از گرفتاری منظور کر لی۔ چیف جسٹس کہتے ہیں ای کورٹ سسٹم سے سائلین کا وقت اور پیسہ بچے گا۔

 

سستے انصاف کی فراہمی میں اب تاخیر نہیں ہو گی۔ ہائیکورٹ میں ہیں یا سپریم کورٹ کی کسی بھی رجسٹری میں، کراچی، لاہور، کوئٹہ یا پشاور، وکلاء اب ویڈیو لنک سے دلائل دے سکیں گے، سپریم کورٹ آف پاکستان ای کورٹ سسٹم کی حامل دنیا کی پہلی سپریم کورٹ بن گئی۔ ای کورٹ سسٹم کے تحت پہلے مقدمے کا فیصلہ بھی سنا دیا گیا، مقدمہ قتل کے ملزم کی ضمانت کی درخواست پر وکلاء نے کراچی سے ای کورٹ سسٹم کے تحت دلائل دیئے۔

مقدمے کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے وکلاء کو مبارکباد دیتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ وکلاء کے تعاون سے سستے اور فوری انصاف کی جانب اہم قدم اٹھا رہے ہیں۔ آج پہلے ہی روز ای کورٹس سے سائلین کے پچیس لاکھ روپے بچ گئے۔ کراچی سے وکلاء اسلام آباد آتے تو فائیو سٹار ہوٹل میں ٹھہرتے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ عینی شاہدین کے مطابق نامعلوم افراد نے قتل کیا، مقامی پولیس نے تفتیش میں بدنیتی دکھائی۔

 

عدالت نے درخواست گزار نور محمد کی ضمانت قبل ازگرفتاری کی درخواست منظور کر لی، چیف جسٹس نے سیکریٹری سپریم جوڈیشل کونسل کو سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کی کاپی حاصل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے سندھ ہائی کورٹ کے ججزکے ضمانت کی اپیلوں پرفیصلوں سے متعلق دو ہفتے میں رپورٹ طلب کرلی۔ ملزم کے خلاف دو ہزار چودہ میں قتل کا مقدمہ درج ہوا۔ ٹرائل کورٹل نے دو ہزار سولہ میں درخواست ضمانت خارج کی۔ سندھ ہائی کورٹ نے دو ہزار سولہ سے دو ہزار انیس تک درخواست ضمانت پرفیصلہ نہیں کیا۔

عطاء سبحانی  3 ماه پہلے

متعلقہ خبریں