سپریم کورٹ کا سیکرٹری ریلوے کو 15 روز میں ریلوے زمین سے تجاوزات ہٹانے کا حکم

کراچی (پبلک نیوز) سپریم کورٹ نے 15 روز میں ریلوے زمین سے تجاوزات ہٹانے اور ایک ماہ میں سرکلر ریلوے چلانے کا حکم دے دیا۔ جسٹس گلزار نے سیکرٹری ریلوے سے کہا آپ ان حالات میں سو کیسے سکتے ہیں؟ کبھی شہر کا دورہ کیا ہے؟ قبضہ مافیا کے پاس اسلحہ ہے تو ہمارے پاس فوج اور رینجرز ہے، انہیں استعمال کریں۔

 

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ نے ایک ماہ میں کراچی سرکلر ریلوے چلانے کا حکم دے دیا۔ عدالت نے سیکرٹری ریلوے سے استفسار کیا کہ آپ کو معلوم نہیں ہمارا حکم کیا تھا؟ ابھی تک عملدرآمد کیوں نہیں ہوا؟ جسٹس گلزار احمد نے سیکرٹری ریلوے کو حکم دیا 2 ہفتے میں ریلوے اراضی سے ہر حال میں تجاوزات ختم کریں۔ چیف سیکرٹری کو میئر کراچی اور دیگر حکام کے ساتھ مل کر آپریشن کرنے کا حکم دے دیا۔

 

سپریم کورٹ نے شہر میں تجاوزات کے خاتمے سے متعلق سیکرٹری دفاع کی رپورٹ مسترد کر دی۔ جسٹس گلزار احمد نے سیکرٹری دفاع سے استفسار کیا کہ آپ کو انگریزی نہیں آتی؟ سیکرٹری دفاع نے جواب دیا۔ سر انگریزی سمجھتا ہوں۔ جسٹس گلزار نے کہا تو اس رپورٹ پر سائن کیوں نہیں کیے؟ ابھی سائن کریں۔ ریمارکس دیئے کہ یہ رپورٹ آنکھوں میں دھول جھونکنے کے برابر ہے۔

 

جسٹس گلزار نے سیکرٹری دفاع سے کہا کہ آئندہ سیشن میں آئے تو ملٹری لینڈ کی زمینیں قبضے سے خالی ہوں۔ جسٹس گلزار نے پی آئی اے کی زمین پر شادی ہال بنانے پر پی آئی اے افسر کی سرزنش کر دی، کہا ایئرلائن نہیں چلتی تو اب شادی ہال چلائیں گے؟ آج ہی سب ختم کریں ورنہ جیل بھیج دیں گے۔

 

جسٹس گلزار نے استفسار کیا کہ لائنز ایریا پراجیکٹ والے کیا کر رہے ہیں؟ آپ نے حالت دیکھی ہے کیا حشر کیا ہے؟ یونیورسٹی روڈ اور سوک سینٹر کی کیا حالت ہے؟ ڈی جی لائنز ایریا نے کہا کہ مالی معاملات کے باعث پریشانی ہے۔ جسٹس گلزار نے ریمارکس دیئے کہ فالتو ملازم بھرے ہوئے ہیں ان کو کم کریں مسئلہ حل ہو جائے گا۔

 

جسٹس گلزار نے کہا حسن اسکوائر کے سامنے دیوار تو گرادی لوگوں نے وہاں ایمبولینس کھڑی کردی ہیں۔ اب کیا کریں گے؟ ڈی جی لائنز ایریا نے کہا سر ہٹانے کی کوشش کریں گے۔ جسٹس گلزار نے کہا سرکاری افسر تکیئے لگا کر آرام کر رہے ہیں۔ جو آتا ہے تکیہ کے نیچے کچھ رکھ دیتا ہے اور کام ہو جاتا ہے۔

حارث افضل  1 ہفتے پہلے

متعلقہ خبریں