بڑھتی آبادی سے متعلق کیس پر سپریم کورٹ کل فیصلہ سنائے گی

اسلام آباد(امجد بھٹی) بڑھتی آبادی سے متعلق کیس کی سماعت، حکومت نے اپنا پلان سپریم کورٹ میں پیش کردیا، چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دئیے کہ آبادی کنٹرول کے معاملے پر عدالت اپنی نگرانی جاری رکھے گی۔

 

چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی، حکومت نے آبادی کنڑول کرنے کا ایکشن پلان سپریم کورٹ میں پیش کر دیا۔ سیکرٹری صحت زاہد سعید نے بتایا آبادی میں سالانہ دو اشارعیہ چار فیصد کا اضافہ ہو رہا۔ آبادی پر کنٹرول کے دو ہدف مقرر کیے ہیں، ایک ہدف دو ہزار پچیس اور دوسرا دو ہزار تیس تک حاصل کیا جائے گا۔ دو ہزار پچیس تک آبادی بڑھنے کی شرح ایک اعشاریہ پانچ فیصد جبکہ دو ہزار تیس تک یہ شرح ایک اعشاریہ چار فیصد ہو جائے گی۔

 

چیف جسٹس نے آبادی کنڑول سے معتلق استفسار کیا کہ آبادی سے متعلق سروے کس حد تک مستند ہوتے ہیں، تھرڈ پارٹی سروے کس سے کرایا جاتا ہے؟ عدالت کو سیکریٹری صحت نے بتایا کہ واضح کیا کہ سروے کے اعداد و شمار مستند نہیں ہوں گے تو کوئی بھی پلان بیکار ہے۔ حکومت نے ٹاسک فورس کی رپورٹ پر عمل نہ کیا تو تباہی ہو گی۔

 

چیف جسٹس نے حکومت اور عوام دونوں کو متبنہ کیا کہ آبادی کو کنٹرول نہ کیا تو تباہی آئے گی۔ ملکی وسائل سکڑ رہے ہیں، ایک وقت آئے گا، وسائل اور طلب میں خلاء کو پر کرنا مشکل ہو جائے گا۔ عدالت ٹاسک فورس کی سفارشات پر عملدرآمد کے معاملے کی نگرانی کرے گی۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ آبادی کنٹرول سے متعلق کیس پر وہ فیصلہ لکھ چکے ہیں، جو منگل کو سنایا جائے گا، عدالت نے حکومت کو ہر تین ماہ بعد ٹاسک فورس کی سفارشات پر عملدرآمد کی رپورٹ پیش کرنے کا حکم بھی دے دیا۔

عطاء سبحانی  2 ماه پہلے

متعلقہ خبریں