سید نوید قمر کی زیر صدارت پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس

اسلام آباد(جمشید خان) پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی کے اجلاس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ وزارت توانائی کے ذیلی اداروں کے ذمے 293 ارب روپے کے بقایاجات ہیں، جس پر کمیٹی نے ریمارکس دیئے کہ گردشی قرضوں میں اضافہ ہو رہا ہے اور جن کی تقسیم کار کمپنیوں کو بہترین قرار دیا جا رہا ہے، ان کے ذمے اربوں روپے کے بقایا جات ہیں۔

 

پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس سید نوید قمر کی صدارت میں ہوا۔ اجلاس میں وزارت توانائی کے آڈٹ پیراز کا جائزہ لیا گیا۔ کمیٹی کو آڈٹ حکام نے بتایا کہ وزارت توانائی کے ذیلی اداروں کے ذمے 293 ارب روپے کے بقایا جات ہیں، جن میں واپڈا، جینکوز اور تقسیم کار کمپنیاں شامل ہیں۔ کمیٹی کے کنوینر نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ یہی وجہ ہے کہ گردشی قرضوں میں اضافہ ہو رہا ہے، جن تقسیم کار کمپنیوں کو بہترین قرار دیا گیا ہے، ان کے ذمے بھی اربوں روپے واجب الادا ہیں۔ آڈٹ حکام اور وزارت کے اعداد و شمار میں فرق کی وجہ سے کمیٹی نے معاملہ ڈی اے سی میں بھجوا دیا۔

 

کمیٹی کے اجلاس میں کے الیکڑک کا معاملہ بھی زیرِ غور آیا۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ دو ہزار پندرہ میں سٹے آڈر کی وجہ سے کے الیکڑک کو تیل اور گیس مل رہی ہے۔ کمیٹی کے رکن سردار ایاز صادق نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ اس کا مطلب ہے کہ کے الیکڑک والے سب سے بڑے بدمعاش ہیں۔ ایاز صادق نے وزات توانائی کے حکام سے استفسار کیا کہ کے الیکڑک کا معاہدہ کس دور میں ہوا تھا، جس سیکریٹری وزارت توانائی نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ ان کے خیال میں یہ معاہدہ نوید قمر کے وزارت کے دور میں ہوا تھا، جس پر نوید قمر نے برجستہ جواب دیتے ہوئے کہا کہ ان کے دور میں یہ معاہدہ نہیں ہوا تھا۔ نوید قمر کے جواب پر کمیٹی روم قہقوں سے گونج اٹھا۔

 

سردار ایاز صادق نے اپنے ریمارکس میں سیکریٹری توانائی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ دیکھ لیں کہ یہ معاہدہ موجودہ مشیر خزانہ اور اس دور میں وزیر نجکاری حفیظ شیخ نے کیا تھا۔ کمیٹی نے استفسار کیا کہ کے الیکڑک کے ساتھ معاہدے میں کوئی ثالثی کی شق تھی، جس پر وزارت توانائی کے حکام نے جواب دیا کہ ثالثی کی شق معاہدے میں نہیں تھی، جس پر کمیٹی نے تجویز دی کہ معاملے کو موجودہ مشیر خزانہ کے پاس بھیج دینا چاہیے۔

عطاء سبحانی  3 ماه پہلے

متعلقہ خبریں