‏طاہر داوڑ قتل کیس، حقیقت کیا ہے؟ حکومت کب بتائے گی؟

اسلام آباد (پبلک نیوز) وزیرِ اعظم عمران خان کے ترجمان افتخار درانی نے 28 اکتوبر کو وی او اے کی شہناز نفیس کو ریڈیو پروگرام میں طاہر داوڑ کے اغوا کی خبر کو غلط قرار دیتے ہوئے بتایا تھا کہ وہ محفوظ ہیں اور پشاور میں موجود ہیں۔

پبلک نیوز کے مطابق نئی حکومت کے ارکان کے غیر ذمہ دارانہ بیانات کا چرچا ہمیشہ سے میڈیا میں رہا ہے۔ پبلک نیوز نے بارہا اس طرف توجہ مبذول کروائی ہے۔ کابینہ ارکان کے غیر ذمہ دارانہ بیانات کے باعث قومی سطح پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں اور جگ ہنسائی بھی ہوتی ہے۔

اس معاملے کی تازہ ترین مثال وزیر اعظم کے ترجمان افتخاردرانی کا شہید ایس پی طاہر داوڑ کے حوالے سے دیا گیا بیان ہے۔ طاہر داوڑ کے اغوا کے بعد جب امریکی خبر رساں ادارے وائس آف امریکہ نے افتخار درانی سے اس حوالے سے معلوم کیا تو انہوں نے سارا معاملہ ہی صاف کردیا۔

کہا کہ طاہر داوڑ کے اغوا سے متعلق خبریں غلط ہیں وہ محفوظ ہیں اور پشاور میں موجود ہیں۔ ان کے اغوا سے متعلق غلط تاثر دیا گیا۔  انہوں نے طاہر داوڑ کے محفوظ ہونے کی خبر پاکستانی میڈیا پر چلنے کا دعویٰ بھی کر دیا حالانکہ ایسا کچھ ہوا ہی نہیں تھا۔ وزیر اعظم کے ترجمان کے طور پر افتخار درانی کے ایسے بیانات نہایت نامناسب ہیں۔

احمد علی کیف  5 ماه پہلے

متعلقہ خبریں