شاعر تنویر نقوی کو مداحوں سے بچھڑے 46 برسی بیت گئے

لاہور (پبلک نیوز) 6 فروری 1919 کو لاہور میں پیدا ہونے والے اردو کے نامور فلمی شاعر تنویر نقوی کی 46 ویں برسی آج منائی جا رہی ہے۔ 21 سال کی عمر میں ان کا پہلا مجموعہ سنہرے سپنے کے نام سے شائع ہوا۔

اردو کے نامور فلمی شاعر تنویر نقوی کی 46 ویں برسی آج منائی جا رہی ہے۔ تنویر نقوی کا اصل نام سید خورشید علی تھا وہ 6 فروری 1919 کو لاہور میں پیدا ہوئے۔ تنویر نقوی نے 15 سال کی عمر میں شاعری شروع کی ان کی پہلی فلم سوامی 1941 میں ریلیز ہوئی۔

21 سال کی عمر میں 1940 میں ان کا پہلا مجموعہ سنہرے سپنے کے نام سے شائع ہوا جس کے بعد بمبئی چلے گئے جہاں 18 فلموں کے نغمات تحریر کیے جن میں انمول گھڑی کے لیے نور جہاں کا گایا نغمہ آواز دے کہاں ہے تو آج بھی روز اول کی طرح پسند کیا جاتا ہے۔

بمبئی میں انہوں نے جگنو، شیریں فریاد، محبوبہ وغیرہ کے لیے نغمات لکھے جو بے حد مقبول ہوئے۔ 1950 میں تنویر نقوی پاکستان آگئے جہاں انہوں نے کوئل، جھومر، ایاز، سلمیٰ، موسیقار، انارکلی اور  گھونگھٹ وغیرہ کے لیے دل کو چھو لینے والے گیت لکھے۔

تنویر نقوی نے اپنے خوبصورت گیتوں پر تین مرتبہ نگار ایوارڈ حاصل کیا انہوں نے کئی خوبصورت نعتیں بھی تحریر کیں۔ تنویر نقوی نے دو شادیاں کی تھیں ان کی پہلی بیوی فلمی ادکارہ مایا دیوی تھیں جب کہ دوسری بیوی ملکہ ترنم نور جہاں کی بڑی بہن عیدن تھیں۔ تنویر نقوی کا انتقال یکم نومبر 1972 کو لاہور میں ہوا۔ وہ میانی صاحب کے قبرستان میں سپرد خاک ہیں۔

حارث افضل  2 ہفتے پہلے

متعلقہ خبریں