شہید نعیم راشد کی بیوہ کا حوصلہ دیکھ کر رپورٹر کی آنکھیں چھلک گئیں

کرائسٹ چرچ(پبلک نیوز) بہادر شوہر کی صابر بیوی، نیوزی لینڈ سانحہ میں نہایت جرآت مندی سے دہشت گرد کو روکنے والے شہید نعیم راشد کی بیوہ کا صبر اور حوصلہ دیکھ کر رپورٹر کی بھی آنکھیں چھلک گئیں۔

 

نیوزی لینڈ سانحہ میں نہایت جرآت مندی سے دہشت گرد کو روکنے والے شہید نعیم راشد کی بیوہ نے انٹرویو میں کہا کہ ان کے شوہر بہت اچھے انسان تھے۔ رپورٹر نے سوال کیا کہ کس چیز نے جمعے کے روز نعیم کو متاثر کیا؟ جس پر امبرین نے کہا کہ میں جانتی ہوں کہ وہ بہت بہادر آدمی تھے، بہت مددگار اور محبت کرنے والے، تو محبت آپ سے ایسا کروا سکتی ہے، جو انہوں نے کیا۔ انہوں نے لوگوں کی زندگیاں بچانے کی کوشش کی کیونکہ وہ محبت کرنے والے تھے۔

 

امبرین کا کہنا تھا کہ بچپن سے ہی وہ بہت خیال رکھنے والا تھا، وہ بچوں کے لیے ماڈل تھا، ہم بچوں سے کہتے تھے کہ اس کے جیسا بنو، میرے شوہر اور بیٹا لوگوں کو بچاتے ہوئے شہید ہوئے اور یہی وہ چیز ہے جو محبت مانگتی ہے، یہ امن اور محبت کا مذہب ہے۔ امبرین نے مزید کہا کہ انھیں دہشت گرد پر ترس آتا ہے کہ اس کے دل میں محبت نہیں نفرت تھی۔

 

امبرین نے بات کرتے ہوئے کہا کہ مجھے افسوس ہوتا ہے، افسوس اس دہشت گرد کے لیے، اس پر ترس آتا ہے کہ اس کے دل میں محبت نہیں نفرت تھی اور وہ کبھی امن محسوس نہیں کر سکتا، جو ہم کر سکتے ہیں۔ رپورٹر نے سوال کیا کہ کیا امبرین دوبارہ مسجد جائیں گی؟جس پر امبرین نے جواب دیا کہ سیہی تو ہے جو میں نے اس سب سے سیکھا ہے، اس نے مجھے مضبوط بنایا ہے، نہ صرف مجھے بلکہ میری دوسری کئی بہنوں کا بھی یہی خیال ہے کہ اس نے ہمیں اور مضبوط بنایا ہے۔

 

امبرین راشد کا ہمت اور حوصلہ دیکھ کر حیران رہ جانے والی رپورٹر نے کہا کہ امبرین ان میں سے ایک شخصیت ہیں، جنھوں نے انھیں سب سے زیادہ متاثر کیا اور انھیں گلے لگا لیا۔ امبرین راشد کے شوہر اور 14 سالہ بیٹا نیوزی لینڈ سانحہ میں شہید ہو گئے تھے۔ ان کا حوصلہ اور محبت کا جذبہ واقعی قابلِ تعریف ہے۔

عطاء سبحانی  2 ماه پہلے

متعلقہ خبریں