تھرپارکر سے اٹھتی آہوں کی بلاول بھٹو کو صدائیں

رفیق الرحمان

سندھ حکومت کی غفلت اور نااہلی، تھرپارکر میں قحط سالی کے شدت خطرناک حد تک بڑھ گئی۔ بارشیں نہ ہونے کی وجہ سے انسان جانور پرندے سخت متاثر، حلال اور پالتو جانور بھوک کے سبب مردہ جانوروں کو  کھانے لگے۔

رواں ماہ تھر میں بچوں کی ہلاکتوں کی تعداد 20 سے بھی تجاوز کر گئی ہے۔ لیکن سندھ حکومت کی کارکردگی صرف کاغذوں پر نظر آ رہی ہے۔ گزشتہ روز سندھ کے صوبائی وزرا کے اجلاس میں چئیرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کی خفگی کی بھی اطلاعات ہیں لیکن کیا اس سے صورتحال پر کوئی بہتری ہوگی یا سندھ سرکار بدستور بے حسی کی چادر تانے سوئے رہے گی۔

تھرپارکر ضلع کے سات تحصیلوں کلوئی مٹھی ڈیپلو ننگرپارکر چھاچھرو اسلام کوٹ ڈاھلی میں قحط کی شدت مزید تیز ہو گئی ہے۔ بارشیں نہ ہونے کے وجہ سے گھاس اور درخت ختم ہو گئے ہیں۔ جس کے وجہ سے پالتو اور جنگلی جانور شدید متاثر ہوکر مرنے لگے۔

شدید بھوک کی وجہ سے حلال جانور مردہ جانوروں کی ہڈیاں اور ماس کھانے لگے۔ پہلی بار بھوک کے وجہ حلال جانور مردہ جانوروں کا ماس کھا رہے ہیں۔ مگر سندھ حکومت نے پالتو جانوروں کے لییے ابھی تک چارہ کا کوئی بندوبست نہیں کیا۔

احمد علی کیف  4 روز پہلے

متعلقہ خبریں