10 محرم الحرام، جب اہل بیت کو میدانِ کرب و بلا میں تِشنہ لب شہید کر دیا گیا

 

پبلک نیوز: 10 محرم الحرام 61 ہجری میں آج ہی کے دن نواسہ رسولؐ مولا امام حسین علیہ السلام اور آپ کے رفقاؑ  کو میدانِ کرب و بلا میں تِشنہ لب شہید کر دیا گیا۔ مولا امام حسینؑ نے شہید ہو کر دین بچا لیا اور انسانیت کو دوام  بخشا۔

 

10 محرم الحرام 61 ہجری کا خونی آفتاب پوری خون آشامیوں کے ساتھ طلوع ہوا۔ صبح ہوئی اور جناب حرؑ اپنے بیٹے، اہلیہ اور غلام کے ہمراہ خدمتِ امامِ عالی مقامؑ میں حاضر ہوئے۔ آپؑ نے لشکرِ یزید کو چھوڑ کر اطاعتِ امامؑ کا انتخاب کیا اور اولین شہدا میں شمار ہوئے۔

 

مولا حسینؑ کے جانثار آپؑ سے اِذنِ جہاد طلب کرتے رہے۔ پہلے ایک ایک کا معرکہ ہوا۔ امام حسینؑ کے دلاور سپاہی لشکرِ یزید کے فوجیوں کو فی النار کرتے رہے۔ دینِ حق کے سپاہیوں نے کفر کے امین بے تحاشہ سپاہیوں کو واصلِ جہنم کیا۔ اس پر شمر بولا یہ لشکرِ جانثار انِ حسینؑ ہماری تمام فوج کو مار ڈالے گا۔ لہذا ایک ایک کی جنگ بند کر کے ان پر ایک ساتھ حملہ آور ہو جاؤ۔

 

پہلے اصحابِ حسین ؑ شہید ہوئے۔ جنابِ ذوہیر ابن قینؑ، حضرتِ حُر سمیت تمام اصحابِ حسینؑ، پھر اہل بیتِ رسولؐ نے دین محمدیؐ پر جانیں نچھاور کرنا شروع کر دیں۔ امام حسینؑ کے بیٹے، کڑیل جوان مولا علی اکبرؑ، بھائی مولا غازی عباسؑ اور صرف 6 ماہ کے پسر مولا علی اصغرؑ سمیت سب شہید ہو گئے۔

 

پھر امامِ عالی مقام ؑ نے اس معرکہ حق و باطل میں تیغ سے جہاد شروع کیا۔ آپؑ نے کفار کی کثیر تعداد کو واصلِ جہنم کیا۔ مولا حیدر کرارؑ کے اس پاک فرزند کی ہمت سے لشکر کفار میں تلاطم آ گیا۔ لشکرِ کفار خوفزدہ بھیڑیوں کی طرح بھاگنے لگا۔ اتنے میں قرآن کی اس آیت کی تلاوت آپؑ کی سماعتوں سے ٹکرائی۔ '' اپنے پروردگار کی طرف پلٹ آ، اس حال میں کہ میں تجھ سے راضی اور تو مجھ سے راضی ہے۔''

 

بس پھر کیا تھا امامِ عالی مقام ؑ نے تلوار نیام میں رکھی۔ آپؑ پر نیزوں اور تیروں کی بارش ہونے لگی۔ جسے کچھ نہ ملا اس نے پتھر برسا دیے۔ آپؑ  گھوڑے کی زِین سے زمین پر آگئے۔ آپ نے معبودِ حقیقی کو سجدہ کیا۔ اسی حالتِ سجدہ میں شمر نے آپکی گردن کی پشت پر خنجر سے 13 ضربیں چلائیں اور آپ کا سرِ پاک تن پاک سے جدا کر دیا گیا۔

               

اس سانحے کو قیدِ زمین و مکاں نہیں

اک درسِ دائمی ہے شہادت حسینؑ کی

احمد علی کیف  2 ماه پہلے

متعلقہ خبریں