کراچی سمیت سندھ بھر میں نویں، دسویں جماعت کے امتحانات کا آج سے آغاز

کراچی(پبلک نیوز) سندھ بھر میں میٹرک کے امتحانات شروع ہو گئے۔ امتحانات میں دفعہ 144 اور نقل کی روک تھام کے دعوے جھوٹے نکلے۔ بوٹی مافیا نے پہلے پرچے سے ہی کام دیکھانا شروع کر دیا۔ وزیر تعلیم اور نہ ہی چیئرمین میٹرک بورڈ کے دورے کارگر ثابت ہوئے۔

 

کراچی سمیت سندھ بھر میں نویں، دسویں جماعت کے امتحانات کا آج سے آغاز ہو گیا۔ امتحانات میں نقل کی روک تھام کے لیے امتحانی مراکز کے اطراف دفعہ 144 کے تحت فوٹو اسٹیٹ کی دکانیں بند کرا دی گئی۔ کراچی میں نویں اور دسویں جماعت کے امتحانات کے لئے 365 امتحانی مراکز بنائے گئے ہیں، جن میں 202 نجی اسکول اور 163 سرکاری اسکول شامل ہیں۔ کراچی میں تین لاکھ 67 ہزار 606 طلبہ و طالبات سائنس اور جنرل گروپ کے امتحانات دے رہے ہیں۔

 

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین میٹرک بورڈ ڈاکٹر سعید الدین نے بتایا کے سیکریٹری اسکولز نے سکیورٹی کی یقین دہانی کروائی تھی، لیکن ابھی تک مجھے اسکول کے باہر سکیورٹی نظر نہیں آئی۔ چیئرمین میٹرک بورڈ کا موبائل کے استعمال کی روک تھام کا دعویٰ بھی ہوا ہوتا نظر آیا۔ امتحانی مراکز میں کھلے عام موبائل فونز استعمال ہوتے رہے۔ وزیر تعلیم بھی چند اسکولوں کے دورے کرتے ہوئے چلتے بنے۔ چند اسکولوں میں شکایات سنیں اور مسائل کے حل کی کھوکھلی یقین دہانی کرتے چلتے بنے۔

عطاء سبحانی  2 ہفتے پہلے

متعلقہ خبریں