چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار کی مدت ملازمت کا آج آخری دن

سلام آباد(پبلک نیوز) جسٹس ثاقب نثار آج چیف جسٹس کے عہدے سے ریٹائر ہو جائیں گے۔ بطور چیف جسٹس ثاقب نثار نے متعدد از خود نوٹس اورتاریخ ساز فیصلے دیئے۔

 

اکتیس دسمبر2016 کوسپریم کورٹ کے چیف جسٹس کاعہدہ سنبھالنے کے بعد جسٹس ثاقب نثار نے پانامہ لیکس کے معاملے پر بینچ تشکیل دیا، جس نے اس وقت کے وزیراعظم نوازشریف کو نا اہل قرار دیا۔ اپنی مدت کےدوران جسٹس ثاقب نثار نے29 ازخود نوٹسز لیے، سب سے پہلا نوٹس شاہ زیب قتل کیس کے ملزم شاہ رخ جتوئی کی رہائی پر لیا۔

 

جسٹس ثاقب نثار نے بیرون ملک پاکستانیوں کے بنک اکاؤنٹس اورجائیدادوں، ججز اور سرکاری افسران کی دوہری شہریت، سرکاری گاڑیوں کا ذاتی استعمال، وکلا کی جعلی ڈگری، بڑھتی ہوئی آبادی، صاف پانی کی قلت، زیرزمین پانی کا کمرشل استعمال، لاہور میں بل بورڈز ہٹانے کا معاملہ، اسپتالوں میں سہولیات کا فقدان اور سرکاری ہسپتالوں میں کمی، زنیب قتل اورآرمی پبلک اسکول انکوائری کمیشن سمیت دیگر معاملات پر ازخود نوٹسز لئے۔

متعلقہ خبر:میاں ثاقب نثار کے بطور چیف جسٹس 2 سال 18 دن

آئین کے آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت تاحیات نااہلی کا فیصلہ بھی جسٹس ثاقب نثار نے دیا، جس کے تحت نوازشریف اور جہانگیرترین نااہل ہوئے۔ مسلم لیگ ن کی صدارت کا کیس، عمران خان اور شیخ رشید کی اہلیت، سینیٹر ہارون اختر اور سینیٹر سعدیہ عباسی کی نااہلی سمیت مختلف مقدمات میں تندو تیزریمارکس اور اہم فیصلے جسٹس ثاقب نثار کی وجہ شہرت بنے۔

 

نقیب اللہ محسود قتل کیس، اس سابق ایس ایس پی ملیرراؤ انوار کی طلبی اور اسکول کی فیسوں میں کمی سے متعلق مقدمے کو خوب پذیرائی ملی۔ ڈی پی او پاکپتن تبادلہ کیس میں وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدارکو طلب کیا۔ کراچی میں ہسپتالوں کی حالت زار اور تھر میں غذائی قلت سے متعلق مقدمے میں وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کو طلب کیا۔

 

ثاقب نثار 18جنوری 1954 کو لاہور میں پیدا ہوئے۔ کیتھڈرل ہائی اسکول لاہور سے میٹرک کیا۔ گورنمنٹ کالج لاہور سے گریجویشن اور قانون کی ڈگری پنجاب یونیورسٹی سے1980 میں حاصل کی۔ ثاقب نثار22 مئی 1998 کو لاہور ہائی کورٹ کے جج بنے اور18 فروری 2010 کو سپریم کورٹ آف پاکستان کے جج تعینات ہوئے۔ جسٹس ثاقب نثار نے 3 نومبر 2007 کو جنرل پرویز مشرف کے پی سی او پر حلف سے انکار کیا تھا۔

عطاء سبحانی  1 ماه پہلے

متعلقہ خبریں