ٹرینوں کی آمد و رفت کا نظام درہم برہم، ٹرینیں 20سے 30گھنٹے تاخیر کا شکار

کراچی (پبلک نیوز) دو روز بعد رحیم یار خان میں ٹریک کی بحالی کا کام مکمل ہو گیا لیکن ٹرینوں کی آمد و رفت کا نظام درہم برہم ہو گیا، ٹرینیں بیس سے تیس گھنٹے تاخیر کا شکار ہیں، لاہور اور کراچی میں مسافر خوار ہو گئے۔

 

مال گاڑی کے ایک حادثے نے ریلوے کی کارکردگی پر سوالیہ نشان لگا دیئے۔ رحیم یارخان کے قریب مال گاڑی کے حادثے کے باعث ٹرینوں کی آمد رفت کا نظام درہم برہم ہو گیا۔ ٹرینیں 20 سے 30 گھنٹے سے زیادہ تاخیر کا شکار ہیں۔ لاہور اور کراچی اسٹیشنز پر مسافروں کی نیندیں حرام ہو گئیں، بچوں، خواتین، بزرگوں کی ساری رات انتظار میں ہی کٹ گئی لیکن ٹرین نہ آئی۔ کوئی زمین پر بیٹھ کر وقت گزارتا رہا تو کوئی ادھر اُدھر چکر لگاتا رہا۔

 

اسٹیشن پر سہولیات کی کمی نے بھی مسافروں کی پریشانی میں اضافہ کیا، انتظامیہ غائب رہی اور مسافر بے سروسا مانی کی حالت میں پڑے رہے۔ علامہ اقبال ایکسپریس 22 گھنٹے اور پاکستان ایکسپریس 19 گھنٹے تاخیر سے کراچی پہنچی۔ رحیم یار خان کے اسٹیشن ماسٹر میاں مقبول کے مطابق ڈاؤن ٹریک کی بحالی پر تقریباً دو دن لگے۔ حادثے کے مقام پر کرین میں خرابی کے باعث مرمتی کام میں تاخیر ہوئی۔ تاہم ٹریک کی مکمل بحالی کے بعد ٹرینیں اپنی منزل کی جانب گامزن ہیں۔ دو روز قبل لاہور سے کراچی جانے والی مال گاڑی کی 13 بوگیاں الٹ گئی تھیں۔

عطاء سبحانی  4 ماه پہلے

متعلقہ خبریں