قوم کے مستقبل پر ہوئے حملے سانحہ آرمی پبلک اسکول پشاور کو 4برس بیت گئے

پشاور(پبلک نیوز) "ہم بھولے نہیں مقدس لہوکی قربانی، رہتی نسلوں تک جو بن گئی نشانی"۔ حملے سانحہ آرمی پبلک اسکول پشاور کو 4 برس بیت گئے۔ سانحہ اے پی ایس کے شہداکی یاد میں والدین آج بھی غمزدہ ہیں۔ چوتھی برسی پر پوری قوم شہداء کو خراج عقیدت پیش کررہی ہیں۔

 

آج سے ٹھیک چار برس قبل پشاورمیں جو قیامت صغریٰ برپا کی گئی، وہ بھلائے نہیں بھلتی۔ آرمی پبلک اسکول کی دہائیاں دیتی ماؤں نے 147 لخت جگر کو اپنی آنکھوں کے سامنے منوں مٹی تلے اتارتے دیکھا۔ مادرعلمی کی حیثت رکھنے والے آرمی پبلک اسکول کی درودیوارکو جب نہتے معصوم بچوں کے خون سے نہلائے گئے، تو قلم نے سیاہی کی بجائے خون سے ایسی تاریخ لکھی کے پوری قوم ایک صفحے پر آگئی۔

 

آج اے پی ایس شہداء کی چوتھی برسی پر پشاور کے مخلتف مقامات پر قرآن خوانی کا اہتمام کیا گیا ہے اور تمام شہداء کو خراج عقیدت پیش کیا جارہا ہے۔16دسمبر 2014 کو اے پی ایس پشاور لہو لہو ہوا، تو ملت پاکستان نے رب زولجلال کو گواہ بنا کر یہ عہد کر لیا کہ جب تک آخری دہشتگرد کا خاتمہ نہ ہو جائے حق و باطل اور بقاو فنا کی یہ جنگ جاری رہے گی۔

 

16دسمبر 2014 کے دن سورج حسین تمناؤں اور دلفریب ارمانوں کے سنگ طوع ہوا، مگر غروب 132 معصوم و بے قصور بچوں کے لہو کے ساتھ ہوا۔ سانحہ پشاور نے ہر محب وطن پاکستانی کو دلگیر و اشکبار کیا۔ آرمی پبلک اسکول پشاورکو نشانہ بنا کردہشت گرد کتاب اور بستے کو بند کر کے خوف اور دہشت کی علامت بناناچاہتے تھے، لیکن شہیدوں کے امینوں نے اپنے پیاورں کو کتاب اور قلم دے کر دہشت گردوں کے مزموم مقاصد کو خاک میں ملا دیا۔

عطاء سبحانی  1 ماه پہلے

متعلقہ خبریں