خشوگی کے قتل میں 2 سعودی ٹیمیں ملوث، ترکی خاموش نہیں رہے گا، طیب اردوان

انقرہ (پبلک نیوز) ترک صدر طیب اردواں نے کہا ہے کہ پولیس اور انٹیلی جنسی ایجنسی معاملے کا باریک بینی سے جائزہ لے رہی ہے۔ قتل میں ملوث تمام افراد کا احتساب ہونے تک مطمئن نہیں ہوں گے۔ واقعہ استنبول میں پیش آیا لہٰذا ملزمان کے خلاف مقدمہ استنبول میں ہی چلنا چاہیے۔

ترک صدر کا پارلیمنٹ سے خطاب میں سعودی صحافی کے قتل کی تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے کہنا تھا کہ جمال خشوگی کے قتل کی منصوبہ بندی 29 ستمبر کو کی گئی۔ 2 سعودی ٹیمیں خاشقجی کے قتل میں ملوث تھیں۔ قتل ترک سرزمین پر ہوا اس لیے تحقیقات کی ذمہ داری بڑھ گئی ہے۔ ترکی اس قتل پر خاموش نہیں رہے گا۔ سعودی جنرلز اور 9 افراد پر مشتمل ٹیم سعودی عرب سے ترکی پہنچی۔

سعودی قونصل خانے سے کیمرے ہٹا دیے گئے۔ ایک سعودی اہلکار گمراہ کرنے کے لیے صحافی کا روپ دھار کر قونصل خانے سے باہر آیا۔ طیب اردوان نے مزید کہا کہ ترک پولیس اور انٹیلی جنسی ایجنسی اس معاملے کا باریک بینی سے جائزہ لے رہی ہے۔ خشوگی کا قتل بین الاقوامی معاملہ ہے۔  ترک صدر نے صحافی کے قتل پر سعودی عرب کی بے پرواہی پر سوال اٹھائے۔

See the source image

ان کا کہنا تھا کہ 15 رکنی سعودی ٹیم ترکی میں کیا کررہی تھی؟ ٹیم کس کے حکم پر ترکی آئی؟ سعودی قونصلیٹ نے فوری طور پر قتل کی تفتیش شروع کیوں نہ کی؟ خشوگی کی لاش کو ٹھکانے لگانے والا مقامی سہولت کار کون تھا؟ آخر سعودی حکام نے بار بار متضاد بیانات کیوں دیئے؟ سعودی حکام کو ان تمام سوالوں کے جواب دینا ہوں گے۔

طیب اردوان کا کہنا تھا کہ صرف اس وقت مطمئن ہوں گے جب قتل میں ملوث تمام افراد کا احتساب ہوگا۔ سعودی صحافی کے قتل کی تحقیقات کے لیے آزاد کمیشن بنانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ واقعہ استنبول میں پیش آیا لہٰذا ملزمان کے خلاف مقدمہ استنبول میں ہی چلنا چاہیے۔

 

حارث افضل  4 ہفتے پہلے

متعلقہ خبریں