شفاخانے بنے موت کے ٹھکانے، شہر قائد میں مزید دو بچے زندگی کی بازی ہار گئے

کراچی (پبلک نیوز) شہر قائد میں ہسپتال زندگیاں نگلنے لگے۔ مزید دو بچے ہسپتال انتظامیہ کی غفلت سے زندگی کی بازی ہار گئے۔ گلشن اقبال میں واقع کلینک میں 8 سالہ بچی غلط انجکشن سے موت کی آغوش میں چلی گئی۔ ملیر میں ڈاکٹروں کی مبینہ غفلت سے 3 ماہ کا حنین بھی دم توڑ گیا۔

 

کراچی کے اسپتال بچوں کی جانوں سے کھیلنے لگے۔ نشوا کے بعد مزید دو بچے مبینہ ڈاکٹروں کی غفلت کا شکار ہو گئے۔ گلشن اقبال 13 ڈی میں واقع عدنان کلینک میں عطائی ڈاکٹر نے 8 سالہ بچی کو غلط انجکشن لگا دیا۔ جس سے بچی کی حالت بگڑ گئی اور دوران علاج چل بسی۔ والد ظفر اقبال کے مطابق صبا نور کو سانس کی تکلیف کے باعث کلینک لایا گیا۔ بچی کو ڈاکٹر نے غلط انجکشن دیا، واقعے کے بعد عطائی ڈاکٹر عدنان کو پولیس نے گرفتار کر لیا ہے۔

 

بچی کی والدہ کا موقف ہے کہ صبح سے کئی ہسپتال کے چکر لگا چکے ہیں۔ کئی گھنٹے سے جناح ہسپتال میں موجود ہیں مگر ایم ایل او ہسپتال میں موجود نہیں۔

 

دوسری جانب ملیر کے نجی ہسپتال میں ڈاکٹروں کی مبینہ غفلت سے تین ماہ کا بچہ دم توڑ گیا۔ شیرخوار حنین کے والد کے مطابق سینے کی تکلیف کے باعث بچے کو ہسپتال لایا گیا تھا۔

 

ڈاکٹرز نے حنین کے آنکھ پر لگانے کے لئے مرہم دیا جس سے اس کی آنکھ لال ہو گئی۔ ملیر سے نیشنل سٹیڈیم روڈ پر واقع ہسپتال منتقلی کے لیے دوران حنین انتقال کر گیا۔ والد ارشد جوکھیو نے مطالبہ کیا ہے کہ ہسپتال انتطامیہ کے خلاف بھرپور کارروائی کی جائے۔

حارث افضل  2 ماه پہلے

متعلقہ خبریں