پارلیمنٹ کی طرح پی اے سی اجلاس بھی الزامات، نوک جھونک کی نظر ہونے لگے

اسلام آباد (پبلک نیوز) پارلیمنٹ کی طرح پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس بھی الزامات اور نوک جھونک کی نظرہوتے جارہے ہیں۔ مالی بے ضابطگیوں کا جائزہ ایک طرف رکھ کرذاتی صفائیاں اور سیاسی مخالفین کو نیچا دکھانے کی کوشش کی جاتی ہے۔

اجلاس شروع ہوا تو چئیرمین کمیٹی شہباز شریف نے بتایا کہ نصراللہ دریشک نے خط لکھ کر کہا ہے آپ ایف آئی اے کو مطلوب ہیں لہٰذا اجلاس کی صدارت نہ کریں۔ نصراللہ دریشک نے کہا کہ خط میں نے یہ لکھا ملتان میٹرو اور اورنج ٹرین میں شہبازشریف پرالزام ہیں جن کی تحقیقات ایف آئی اے کررہی ہے۔

شہباز شریف نے کہا کہ میں ملزم نہیں، عمران خان نے مجھ پر الزام لگایا تھا۔ نوید قمر کا کہنا تھا کہ ایسی باتوں سے تو شاید وزیراعظم بھی تحقیقات کی زد میں آتے ہیں۔ رانا تنویر نے کہا کہ پنجاب اور خیبر پختونخوا کے کئی وزراء کی انکوائریاں چل رہی ہیں۔

خواجہ آصف نے کہا کہ ہمیں اپنی برادری کا اتنا بھی تماشا نہیں بنانا چاہیے۔ شبلی فراز کا کہنا تھا کہ جس حکومت کا آڈٹ ہو اس کے کسی رکن کو اجلاس میں نہیں بیٹھنا چاہیے۔

دوسری جانب پی اے سی کی ممبرشپ ایک مسئلہ بنی ہوئی ہے۔ وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید نے وزیراعظم سے ملاقات کی اور ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے انھیں ممبرشپ کی یقین دہانی بھی کرا دی ہے۔ ن لیگ کی جانب سے سعد رفیق، رانا ثناء اللہ اور دیگر پی اے سی میں شمولیت کے لیےاسپیکر کو درخواستیں کر رہے ہیں۔

حکومت نے اعتراض اٹھایا ہے کہ نیب زدہ افراد کمیٹی میں شامل ہونا چاہ رہے ہیں۔ پبلک اکاؤنٹس کے دفتر کو نیب انکوائریوں سے بچنے کے لیے استعمال کیا جارہا ہے۔ حکومت نے شہباز شریف سے عہدہ چھوڑنے کا بھی مطالبہ کیا۔

احمد علی کیف  2 ماه پہلے

متعلقہ خبریں