ہیلی کاپٹر کا استعمال، تحریک انصاف اور ن لیگ میں تقابل

پبلک نیوز: تحریک انصاف حکومت کے ہیلی کاپٹر استعمال کرنے کو سیاسی مخالفین نے ہدف تنقید بنا رکھا ہے۔ ن لیگ ہیلی کاپٹر کے سرکاری استعمال کو بھی گناہ کبیرہ قرار دینے پر تلی ہے لیکن کچھ عرصہ پہلے تک سرکاری ہیلی کاپٹر اور طیاروں کا استعمال  ایسے کیا گیا کہ سننے والا بھی شرما جائے۔

تحریک انصاف کی حکومت نے اپنے لیےبہت بلند معیار مقرر کیا ہے، اسی لیےعوام کو اس سےتوقعات بھی زیادہ ہیں۔ عوامی توقعات پر پورا اترنے کے لیے  ہنگامی اقدامات کرنا پڑ رہے ہیں۔ قدم قدم پر احتساب کا بھی سامنا ہے کیونکہ جن نوجوانوں نے حکومت کو ووٹ دیا ہے وہ اندھا دھند تقلید کرنے والے نہیں۔

ایسے میں سیاسی مخالفین کی توپوں کارخ بھی حکومت کی جانب ہے، خاص کرمسلم لیگ (ن) جو اپنے دور حکومت میں عیاشیاں کرتےاورسہولیات کا ناجائز استعمال کرتے تھے۔

وزیراعظم عمران خان کے ہیلی کاپٹر پر تنقید وہ کر رہے ہیں جو خود سرکاری ہیلی کاپٹر کا ناجائز استعمال کرتے تھے۔ سرکاری ہیلی کاپٹر کے ذریعہ خود پر پھول کی پتیاں نچھاور کروایا کرتے تھے۔

نواز شریف بیمار ہوئے تو علاج کے لیے  پاکستان کے بجائے لندن کا انتخاب کیا۔ ان کو لے جانے کے لیے خصوصی طیارہ استعمال ہوا۔ واپسی پر بھی کمال ہوا۔ خسارے میں جاتی پی آئی اے کا بوئنگ طیارہ مختص ہوا جو کئی دن ایئر پورٹ پر کھڑا رہا۔ بیس لاکھ ڈالر کا بل بنا اور طیارہ استعمال بھی نہ ہوا۔

نواز دور میں حسن، حسین اور مریم نواز کے ہیلی کاپٹر کے ناجائز استعمال سے قومی خزانے کو 2کروڑ 34لاکھ کا نقصان پہنچا۔ نواز شریف کا کھانا بھی لاہور سے مری ہیلی کاپٹر پر جاتا تھا۔

ن لیگ حکومت نے انتخابی مہم بھی سرکاری ہیلی کاپٹر پر چلائی۔ شہباز شریف ہوں یا حمزہ شہباز، جلسہ بورے والا میں ہو یا گوجرانوالہ میں سرکاری ہیلی کاپٹر کا ہر جگہ استعمال ہوا۔ پنجاب کابینہ نے تو وفاق سے ہیلی کاپٹر کرائے پر بھی لیا اور اس کے لیے خزانہ سے 12کروڑ 16لاکھ روپے ادا کیے گئے۔

یہ سب کچھ کرنے والے نہ جانے کس منہ سے موجودہ حکومت پر ہیلی کاپٹر کے استعمال کے طعنے کس رہے ہیں۔

احمد علی کیف  10 ماه پہلے

متعلقہ خبریں