جذباتی تقریروں سے کشکول نہیں ٹوٹے گا، ٹھوس اقدامات کرنا ہوں گے، وزیر خزانہ

اسلام آباد (پبلک نیوز) وزیر خزانہ اسد عمر نے کہا ہے کہ پاکستان کو خسارے کے باعث بیرونی قرضہ لینا پڑا۔ معیشت میں بحرانی کیفیت سے روپے کی قدر میں کمی ہوئی۔ ماہانہ 2 ارب ڈالر کا خسارہ ہو رہا ہے۔

وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر کا قومی اسمبلی سے اظہار خیال کرتے ہوئے کہنا تھا کہ پاکستان کو 35 ارب ڈالر خسارے کا سامنا ہے۔ پاکستان کو مئی، جون اور جولائی میں 2 ارب ڈالر خسارے کا سامنا تھا۔ پاکستان کو خسارے کے باعث بیرونی قرضہ لینا پڑا۔ بجٹ خسارہ 900 ارب روپے سے بھی بڑھ گیا ہے۔ معیشت میں بحرانی کیفیت سے روپے کی قدر میں کمی ہوئی۔ ماہانہ 2 ارب ڈالر کا خسارہ ہو رہا ہے۔

اسد عمر کا کہنا تھا کہ بجٹ خسارہ ن لیگ حکومت کے اختتام تک 6.6 فیصد تھا۔ ن لیگ کے منہ سے معشیت کی بات اچھی نہیں لگتی۔ معیشت کو سہارا دینے کے لیے بیل آؤٹ پیکج کی ضرورت ہے۔ الیکشن کے باعث اخراجات میں اضافہ ہوا۔ اسٹاک مارکیٹ میں 7 ماہ کے دوران 15 ہزار پوائنٹس کی کمی ہوئی۔

وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف اور دوست ممالک سے رابطہ کیا۔ دوست ممالک کے سامنے اقتصادی صورتحال اور ایجنڈا رکھا ہے۔ جس کی طرف دیکھ رہے ہیں وہ 19واں آئی ایم ایف پروگرام ہے۔ ہمیں مل کر اسے آخری آئی ایم ایف پروگرام بنانا ہوگا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ برآمدات بڑھانے کے لیے گیس کی قیمت کو کم کیا۔ تجارتی خسارے کو کم کرنے کے لیے بڑا ہدف بنانا ہوگا۔ گزشتہ سال 12 سو ارب روپے کے نوٹ چھاپے گئے۔ جہاد سمجھ کر خسارہ کم اور برآمدات کو بڑھانا ہوگا۔ جذباتی تقاریر سے نہیں ٹھوس اقدامات سے معیشت بہتر ہوگی۔ ہم نے سی پیک کو اگلے مرحلہ تک لے کر جانا ہے۔

وزیر خزانہ کا مزید کہنا تھا کہ کسانوں کے لیے ٹیوب ویل پر بجلی کی قیمت آدھی کر دی۔ واضح کردوں جنرل نیازی کی عمران خان سے کوئی رشتہ داری نہیں۔ مولانافضل الرحمان کو کسی نےغلط خبر دی ہے۔

حارث افضل  3 ہفتے پہلے

متعلقہ خبریں