حدیبیہ پیپز ملز ریفرنس ہے کیا؟

حدیبیہ پیپرز ملز شریف خاندان نے 1992 میں کمپنی آرڈیننس 1984 کے تحت قائم کی تھی۔ اس کے 7 ڈائریکٹرز تھے جن میں میاں محمد شریف، میاں شہباز شریف، عباس شریف، حمزہ شہباز شریف، حسین نواز شریف، صبیحہ عباس اور شمیم اختر شامل ہیں جبکہ کمپنی آرڈیننس کے تحت اس مل کا 30 جون 1998 میں آڈٹ ہونا تھا۔

سن 2000 میں نیب نے شریف خاندان کے خلاف اس کیس کی انکوائری کی۔ کمپنی کے دو ڈائریکٹرز میاں عباس شریف اور صبیحہ عباس کے دستخط کردہ سال 1998 کی بیلنس شیٹ آڈٹ کے لیے پیش کی گئی۔ بیلنس شیٹ میں 61 کروڑ 22 لاکھ روپے کی اضافی رقم شیئر ڈپازٹ کی مد میں پیش کی گئی تھی جبکہ اس رقم سے قبل بھی 3 کروڑ روپے بیلنس شیٹ میں موجود تھی جس کی کوئی وضاحت شریف خاندان کے پاس نہیں تھی۔

دونوں رقوم کو ملا کر کل رقم 64 کروڑ 27 لاکھ روپے بنتی ہے۔ اسی بیلنس شیٹ میں التوفیق سے سرمایہ کاری کے لیے قرضہ اور پھر لندن میں مقدمہ کا بھی انکشاف ہوا جس کی تفصیلات آڈیٹر کو فراہم نہیں کی گئیں، یوں معاملہ ڈی جی ایف آئی اے کو بھیجا گیا۔

تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ غیر قانونی ذرائع سے حاصل کی جانے والی رقم کو فارن ایکوٹی انویسٹمنٹ کے طور پر قانونی ظاہر کیا گیا۔ رقوم غیر ملکی اکاؤنٹس سے بھجوائی جاتی رہیں جبکہ اسحاق ڈار نے منی لانڈرنگ کے لیے غیر ملکی بے نامی اکاﺅنٹس کھولے اور انہوں نے قاضی خاندان کو دھوکا دے کر ان کے نام پر رقوم بیرون ملک منتقل کیں۔

غیر ملکی جعلی اکاؤنٹس صدیقہ سید، سکندرہ مسعود قاضی، کاشف مسعود قاضی اور طلعت مسعود قاضی کے ناموں سے 1992 میں کھلوائے گئے اور ان خاندان کو اکاﺅنٹس کا علم ہی نہ تھا۔

اسی کیس میں اسحاق ڈار نے شریف خاندان کے لیے منی لانڈرنگ کا اعتراف کیا اور عدالت کو بتایا کہ قاضی فیملی کے علاوہ بھی کئی جعلی اکاونٹ کھلوائے جن میں نواز شریف کے ملازمین اور نیشنل بینک کے صدر سعید احمد کے اکاﺅنٹس بھی شامل ہیں اور اس سارے عمل میں نیشنل بینک کے صدر کا منی لانڈرنگ میں تعاون رہا۔

نیب ریفرنس کے مطابق ان اکاﺅنٹس کو کھلوانے کا مقصد 1992 کی حکومت کے دوران بنائے گئے قانون پروٹیکشن آف اکنامک ریفارمز ایکٹ کے تحت کالا دھن سفید کرنا تھا۔ اسی کا فائدہ اٹھا کر اسحاق ڈار نے 90 کی دہائی میں 1 ارب سے زائد کی منی لانڈرنگ کی لیکن پھر وعدہ معاف گواہ بن گئے۔

نیب کی رپورٹ کے مطابق کالا دہن صرف 64 کروڑ 27 لاکھ روپے پر ہی نہیں رکتا، جیسا کہ التوفیق نامی کمپنی نے 1998 میں لندن کی عدالت میں شریف خاندان کے خلاف مقدمہ کیا اور فیصلہ شریف خاندان کے خلاف آیا مگر شریف خاندان نے التوفیق کمپنی کو 80 لاکھ ڈالر دیکر آﺅٹ آف کورٹ سیٹلمنٹ کی۔ نیب کے مطابق ایسی ہی کئی آوٹ آف کورٹ سیٹلمنٹس موجود ہیں۔

حدیببیہ پیپرزملز اسکینڈل میں 73 کروڑ 21 لاکھ روپے معلوم آمدنی کے ذرائع سے غیر متناسب ہیں۔ ریفرنس اس بنا پر داخل دفتر ہوا تھا کہ شریف خاندان، جنہیں بطور ملزمان نامزد کیا گیا تھا، بیرون ملک تھے۔

حارث افضل  3 ہفتے پہلے

متعلقہ خبریں