پنجاب کے نئے بلدیاتی نظام بل میں کیا کیا شامل ہے؟

لاہور (پبلک نیوز) پنجاب اسمبلی نے نئے بلدیاتی نظام کا مسود ہ قانون منظور کر لیا ہے۔ اپوزیشن کی جانب سے بل کی منظوری کے خلاف ایوان کے اندر بھرپور احتجاج کیا گیا۔ نئے بلدیاتی نظام میں کیا کچھ شامل ہے اس کے بارے میں یہاں متن کے نکات پیش کیے جا رہے ہیں۔

متن کے مطابق نئے نظا م میں ویلیج کونسل اور شہروں میں محلہ کونسل کا انتخاب غیر جماعتی بنیادوں پر ہو گا۔ تحصیل اور میونسپل کی سطح پر انتخاب جماعتی بنیادوں پر ہوگا۔ سیاسی جماعتیں بلدیاتی انتخابات کے لیے اپنے پینل دیں گی۔ بل کے تحت تحصیل اور ویلیج کونسل کا نظام قائم ہو گا۔

بل کی منظوری کے بعد ضلع کونسل اور یونین کونسل کا نظام ختم ہو جائے گا۔ شہروں میں میونسپل اور محلہ کونسل جبکہ دیہات میں تحصیل اور ویلیج کونسل ہو گی۔ ویلیج کونسل اور محلہ کونسل میں فری لسٹ الیکشن ہو گا۔ زیادہ ووٹ لینے والا چیئرمین ہو گا۔

زیادہ سے کم ووٹ کی طرف عہدوں کی بالترتیب نمائندگی ہو گی۔ پنجاب اسمبلی کا منظور کردہ بل آج ہی گورنرپنجاب کو منظوری کے لیے بھجوانے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ گورنر کی منظوری اور گزٹ نوٹیفیکشن ہوتے ہی بلدیاتی ادارے تحلیل ہوجائیں گے۔

حکومت پنجاب کی جانب سے احکامات جاری کیے گئے ہیں کہ بلدیاتی اداروں کا ایک سال کے اندر انتخاب کروایا جائے گا۔ نئے انتخاب تک بلدیاتی اداروں میں ایڈمنسٹریٹر مقرر ہوں گے۔ بلدیاتی اداروں کو چالیس ارب کا بجٹ دیا جائے گا۔

نئے بل میں کہا گیا ہے کہ 22 ہزار ویلیج کونسل قائم ہوں گی۔ 138 تحصیل کونسل کے انتخاب ہوں گے۔ لوکل گورنمنٹ تحصیل کونسل، ویلیج کونسل، نیبرہڈ کونسل، میونسپل کارپوریشن اور میٹروپولیٹن پر مشتمل ہوگی۔ پنجاب کے 9 ڈوژنل ہیڈ کوارٹرز کو میٹروپولیٹن کا درجہ دیا جائے گا۔

میٹروپولیٹن اسمبلی کی تعداد زیادہ سے زیادہ تعداد 55 اور کم سے کم 8 ہوگی۔ بلدیاتی انتخابات میں میئر اور اسپیکر کے لئے تعلیم کی شرط ختم کر دی گئی ہے۔ اقلیتی علاقے میں اقلیتی نمائندہ ہی الیکشن لڑ سکے گا۔ بلدیاتی انتخابات میں حصہ لینے والے امیدوار کی عمر کمُ سے کم 25 سال مقرر کی گئی ہے۔

بلدیاتی اسمبلی کا سپیکر کنوئینر کہلائے گا۔ نوجوانوں کی مخصوص نسشتیں ختم کر دی گئی ہیں۔ ویلج کونسل اور نیبرہڈ کونسل کی اسمبلیوں میں فیصلہ شو آف ہینڈ کے ذریعہ ہو گا۔ بلدیاتی اداروں کی مدت چار سال کر دی گئی ہے۔ بل نافذ العمل ہونے کے بعد بلدیاتی اداروں کے انتخابات ایک سال کےاندر کروائے جائیں گے۔

پہلے اور آخری سال مئیر، ڈپٹی مئیر اور چئیرمین کے خلاف تحریک عدم اعتماد نہیں ہو سکے گا۔ بلدیاتی اداروں میں کوئی بھی ترقیاتی کام کروانے کے لیے قرارداد لانی ضروری ہو گی۔ بل ایک سو تئیس صفحات پر مشتمل ہو گا۔

احمد علی کیف  5 ماه پہلے

متعلقہ خبریں