سوائن فلو کیا ہے؟

سوائن فلو کاآغاز میکسیکو سے ہوا۔ مگر اب یہ وبائی مرض پاکستان سمیت دنیا کے بیشتر ممالک میں پھیل چکا ہے۔ پاکستان میں 2009 میں اس مرض کی تشخیص ہوئی۔ یہ مرض جانوروں سے انسان اور انسانوں سے جانوروں میں منتقل ہوسکتا ہے۔

اس کے وائرس کی ساخت بدلتی رہتی ہے۔ سوائن فلو درحقیقت  سانس کی نالی کی خرابی کا مرض ہے۔ اس کا وائرس دفاعی نظام کو کمزور کر دیتا ہے۔

ابتدائی طور پر یہ عام انفلوئزا جیسا ہوتا ہے۔ مریض کو پہلے نزلہ زکام ہوتا ہے۔ اس کے بعد بخار، کھانسی، گلے اور جسم  میں درد، جلن سمیت درد اورتھکاوٹ محسوس ہوتی ہے۔ کچھ کو قے اور اسہال کی شکایت بھی ہوسکتی ہے۔

سوائن فلو کا پتا صرف لیبارٹری ٹیسٹ ہی سے چل سکتا ہے۔ یہ چھوت کی بیماری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پمز میں زیرِعلاج مریض مختلف علاقوں سے آئے ہیں۔ اس بیماری کا وائرس  چھونے، کھانسنے اور چھینکنے سے دیگر افراد میں منتقل ہوتا ہے۔

سوائن فلو کے مریض کو کھانستے اور چھینکتے وقت منہ اور ناک ٹشو پیپر سے اچھی طرح ڈھانپ لینے چاہیئں۔ اس کے بعد ٹشو پیپر ضائع کر کے اچھی طرح صابن سے  ہاتھ دھونے چاہیئں۔ مریض کو چھونے خاص کر اس کی آنکھیں، ناک اور منہ چھونے سے گریز کیا جانا چاہیئے۔

بہتر یہی ہوتا ہے کہ مریض سے دوری اختیار کی جائے۔اب تلک اس مرض کی کوئی ویکسین تیار نہیں کی جا سکی۔ مریض کا اینٹی وائرل دوائیوں سے علاج کیا جاتا ہے۔

احمد علی کیف  2 ماه پہلے

متعلقہ خبریں