سندھ میں خاموش موت کا ذمہ دار کون؟

پبلک نیوز: سندھ میں خاموش موت کا ذمہ دار کون؟ رتو ڈیرو میں ایچ آئی وی وائرس پھیلنے پر تحقیقاتی ٹیم نے اپنی رپورٹ محکمہ صحت کو بھجوا دی، ٹیم کی سفارشات پر 21 روز بعد بھی عمل درآمد نہ ہو سکا۔

 

حکومت سندھ اور محکمہ صحت کی نا اہلی سامنے آچکی ہے ڈی جی ہیلتھ سروسز کی جانب سے تشکیل کردہ ڈزیز سرویلئینس ٹیم نے 20ویں روز بھی اپنی رپورٹ میں رتوڈیرو میں وائرس کے پھیلاؤ کی وجوہات اور روک تھام کے لیے ایپیڈیمیالاجسٹس کی ٹیم مقرر کرنے کی سفارش کی ہے۔ مستقل سفارشات کے باوجود بھی ایپیڈیمیالاجسٹس کی ٹیم تعینات نہیں ہوسکی ہے۔

 

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس قدر بڑے آؤٹ بریک کو روکنے کے لیے اور معاملات کی طح تک پہنچنے کے لیے مخصوص فیلڈ کے ماہرین کی ضرورت ہے۔ ذرائع کے مطابق محکمہ صحت کے پاس 1 بھی ایپیڈیمیالاجسٹ موجود نہیں۔ وائیس چانسلر جامع بینظیر بھٹو پروفیسر انیلا عطاالرحمان سمیت صرف 10 ایپیڈیمیالا جسٹس صوبہ سندھ میں موجود ہیں جو کہ اہم عہدوں پر فائز ہیں۔

 

رپورٹ کے مطابق رتوڈیرو میں اب تک 16 ہزار 866 افراد کی بلڈ اسکریننگ کی گئی جن میں سے 571 کیسز سامنے آئے۔ مجموعی متاثرہ افراد کا تناسب 4۔3 فیصد رہا جبکی مردوں کا تناسب 9۔49 فیصد اور عورتوں کا 1۔51 فیصد برقرار ہے۔

 

رپورٹ کے مطابق ایچ آئی وی سے سب سے زیادہ متاثر 2 سے 5 سال کے بچے ہوئے جن کی تعداد 315 ہے جبکہ مجموعی متاثرہ بچوں کی تعداد 463 ہے۔

حارث افضل  2 ماه پہلے

متعلقہ خبریں