ملک میں معاشی بحران کا ذمہ دار کون؟

ملک کا معاشی بحران نئی حکومت کے لیے چیلنج بنا ہوا ہے۔ ڈالر کی قدر اور شرح سود کا تعین اسٹیٹ بینک کی ذمہ داری ہے۔ اس سارے معاملے میں کلیدی کردار گورنر سٹیٹ بینک طارق باجوہ کا ہے۔

ڈالر کا 2بار لمبی چھلانگ لگاتے ہوئے روپے کو بے قدر کر دینا حکومت کے لیے باعثِ پریشانی ہے۔ آخری بار توروپیہ ڈالر کے مقابلے میں یکا یک گیارہ روپے گر گیا۔ روپےکی قدر میں اس کمی کی وجہ اوپن مارکیٹ نہیں بنی۔

وزیرِ خزانہ کہہ چکے ہیں کہ بیلنس آف پیمنٹ کا بھی کوئی بحران نہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ جس دن ڈالر کی قدر مزید گیارہ روپے بڑھی اس دن مارکیٹ میں ڈالر کی طلب زیادہ نہیں تھی تو پھر آخر ڈالر بڑھا تو بڑھا کیسے؟

اس سوال کا جواب نہایت سادہ ہے۔ ہر روز گورنر سٹیٹ بینک 5 بڑے بینکوں کے ٹرژری ہیڈز کو کال کر کے ڈالر کی حدود و قیود کا بتاتے ہیں۔ مگر اس روز گورنر سٹیٹ بینک طارق باجوہ نے ٹرژری ہیڈز کو فون کر کے کہا کہ آج کوئی حد نہیں۔ یعنی جتنا جی کرے روپیہ بے وقعت کر دیا جائے۔

بس پھر کیا تھا۔ اضطراب پھیلا اور ڈالر چند گھنٹوں میں کہاں سے کہاں پہنچ گیا۔ اسٹیٹ بینک ایک آزاد اور خود مختار ادارہ ہے۔ یہ کسی سے ڈکٹیشن نہیں لیتا۔ ایکسچینج ریٹ کا تعین کرنا اور مانیٹری پالیسی بنانا اسٹیٹ بینک ہی کا اختیار ہے۔ مگر اختیار ذمہ داری کا متقاضی ہوتا ہے۔ کیونکہ ڈالر کی قدر میں اضافہ کا براہِ راست اثر غریب عوام پرہوتا ہے۔

آزادی کا مطلب یہ نہیں ہوتا ہے کہ جو جی کیا، کر دیا۔ خواہ اس کے اثرات غریب عوام کو مزید غریب کر دیں۔ اس حوالے سے وزیرِ خزانہ اسد عمر پر بھی تنقید کی جا رہی ہے۔ ان کا دفاع کہ ایکسچینج ریٹ کا تعین اسٹیٹ بینک کرتا ہے، کمزور دکھائی دیتا ہے۔ بہر حال اس سارے عمل کی ذمہ داری وزیرِ خزانہ پر بھی عائد ہوتی ہے۔

مگر اس بحران کے اصل محرک سٹیٹ بینک اور اس کے گورنر طارق باجوہ ہیں۔ ان کا معیشت کا کوئی تجربہ نہیں۔ وہ ایک ڈی ایم جی افسر ہیں جو فنانس سے متعلقہ عہدوں پر ضرور رہے مگر گورنر اسٹیٹ بینک کے لیے موزوں نہیں۔

دوسرا یہ کہ گورنر سٹیٹ بینک ماضی میں اسحاق ڈار کے منظورِ نظر رہے ہیں۔ گورنر اسٹیٹ بینک کے لیے تین نام سامنے آئے اور اسحاق ڈار نے ان کے نام کا قرعہ نکالا۔ اس کے علاوہ آشیانہ اقبال کیس میں طارق باجوہ کا کمزور فیصلہ سامنے آیا۔ موصوف نے رپورٹ میں کہا کہ پیپرا رولز کی کوئی خلاف ورزی نہیں ہوئی۔ لیکن انکوائری کی سفارش بھی کر دی۔

بہر حال ماہرینِ معاشیات کے مطابق ڈالر کی قدر کا تعین اوپن مارکیٹ کو کرنا چاہیے۔ مگر اس کیس میں تو اوپن مارکیٹ کے بجائے گورنر سٹیٹ بینک نے اتنا بڑا فیصلہ لے لیا اور وہ بھی بغیر کسی ایمرجنسی صورتحال کے۔

یہ صورتحال کئی سوالات کو جنم دے رہی ہے۔ آخر گورنر اسٹیٹ بینک نے بلا وجہ اتنا بڑا فیصلہ کیوں کیا؟ کیا ان میں قابلیت نہیں یا پھر کوئی اور وجہ ہے؟ کیا اس فیصلہ سے کسی نے مال بنایا؟ اس فیصلہ کے نتیجے میں سٹاک مارکیٹ گراوٹ کا شکار ہوئی اور لوگوں کے اربوں ڈوب گئے۔ برآمدات اور درآمدات کے آرڈرز پر منفی اثرات پڑے۔

ان سب کی تحقیقات ہونی چاہئیں۔ ذمہ داروں کا تعین کر کے انہیں گھر بھیجا جانا چاہیے۔

احمد علی کیف  1 ہفتے پہلے

متعلقہ خبریں