اگرکارکردگی بری تھی تو نئی وزارتوں کی پیشکش کیوں؟

ذائقہ چکھنے کے لیے دیگ کا ایک دانہ ہی کافی ہوتا ہے۔ اچھا جوہری ایک نظر میں نگینہ تلاش کر لیتا ہے۔ آزمائے ہوؤں کو آزمانے کے پیچھے کیا کوئی حکمت ہے یا دل کے خوش رکھنے کو یہ خیال اچھا ہے!

وزیرِ اعظم نے کہا کہ جو کام نہیں کرے گا، تبدیل ہو جائے گا۔ مگر امورِ مملکت چلانا، نہ تو کرکٹ کاکھیل ہے نہ ہی کوئی تماشا۔ کرکٹ میں ہاتھ کے اشارے سے فیلڈ پلیسنگ بدلی جاسکتی ہے۔ کاروبارِ حکومت میں صرف بیک جنبشِ قلم وزراء کی تبدیلی ماورائے عقل ہوتی ہے۔

کپتانِ اعظم عمران خان نے شاہی فرمان سے وزراء کے قلمدان تبدیل کر دیئے، وجہ بنی کارکردگی۔

جناب! اگرکارکردگی بری تھی تو نئی وزارت کیوں؟ اگر اسد عمر وزارتِ خزانہ میں کمال نہ دکھا پائے تو، توانائی کی وزارت میں معجزہ کیسے کر سکتے ہیں۔ یہ الگ بات کہ وہ خود ہی وزارتِ توانائی سے تائب ہوگئے۔

فواد چودھری سابق اینکر ہونے کے باوجود وزارتِ اطلاعات کا بوجھ نہ سہہ پائے۔ بھلا وہ کون سی سائنس ہے جس کی بنا پر انہیں وزارتِ سائنس وٹیکنالوجی عطا کر دی گئی۔

بظاہر سائنس سے نابلد و ناآشنا، بطور وزیرِاطلاعات غیر متاثر کن کارکردگی کے حامل کے گلے میں ایک اور طوقِ گراں ڈال دیا گیا۔ دلچسپ امر یہ کہ موصوف نے اسے خوشی خوشی زیبِ گلو بھی کر لیا۔

رہی سہی کسر غلام سرور خان کی بطور وزیرِ ہوابازی تعیناتی نے پوری کر دی۔ وہ پہلے میچ میں ناکام ٹھہرے۔ بقول ان کے وہ وزارتِ پٹرولیم کے لیے تیار ہی نہ تھے۔ تو کیا اب وہ نئی جاب کے لیے تیاری کر چکے ہیں۔ جواب ہے، نہیں۔ نہ انہیں پٹرولیم کا کچھ پتا تھا اور نہ ہوا باز ہی کی کوئی سُن گُن ہے۔

کہیں ایسا نہ ہو کہ تبدیلی کی یہ ہوا آشیانہء حکومت ہی کو اُڑا نہ لے جائے۔ کیونکہ جو شاخِ نازک پہ آشیانہ بنے گا ناپائیدار ہو گا!!

احمد علی کیف  5 ماه پہلے

متعلقہ خبریں