کتاب سے دوری کے اسباب

کتاب انسان کی بہترین دوست ہے. یہ دوست ہم سے روٹھی یا ہم نے اسے چھوڑ دیا، جانے کیا ہوا کہ کتاب سے ہمارا صدیوں کا تعلق ٹوٹ گیا۔

جیسے پہیے کی ایجاد سے صنعتوں کو نئی زندگی مل گئی، ویسے ہی انسان کے روابط اور ذہنی نشوونما کو کتاب سے نئی نئی جہتیں ملی۔ ہر برے وقت میں کتاب نے ساتھ نبھایا، کتاب نے ہر فن سکھایا ، انگلی پکڑ کرانسان کو ہزاروں سال کا سفر آن کی آن میں کرادیا۔

لیکن پھر یہ کتابیں سجنے لگیں، شیلف ان کتابوں سے بھرے تو، سرہانے کے نیچے سے، بستے کے اندر سے اور پھر رفتہ رفتہ ہماری زندگیوں سے نکل کر کتابیں شیلفوں میں سج سنور کر بیٹھ گئیں۔ جیسے روٹھ گئی ہوں، ہم نے بڑی بڑی لائبریریاں بنا ڈالیں اور کتابوں سے استفادہ کرنا چھوڑ دیا۔  

کتاب کی جگہ مادہ پرستی کا نمونہ، ٹیکنالوجی کا شاہکار، موبائل فون، ٹیب، کمپیوٹرز تو ہمارے ساتھ موجود ہیں۔ جو ہمہ وقت ہمیں مصروف بھی رکھتے ہیں اور معلومات بھی دیتے ہیں اور ہمیں اپنے آپ سے بے خبر بھی کردیتے ہیں۔ ہم سے ہماری باتیں کرنے والی کتابیں جانے کہاں کھو گئیں۔

کتاب نے عقل اور شعور کو نئی زندگی دی، کتاب نے ہم سے ہماری، ہمارے ماضی کی اور ہمارے مستقبل کی باتیں کی جبکہ ہم نے کتاب کو شیلف میں سجا کر رکھ لیا۔ اس کی اہمیت فراموش کر دی اور اپنے اس عظیم دوست کو خود سے دور کر لیا۔

حارث افضل  1 ہفتے پہلے

متعلقہ خبریں