بچوں کو اس خاص انداز میں بیٹھنے سے کیوں منع کرنا چائیے

 

پبلک نیوز: اگر آپ کے گھر میں بالخصوص دو سال سے زائد کے بچے ہیں اور وہ ٹانگوں کو کچھ اس طرح سکیڑ کر بیٹھتے ہیں کہ انگریزی حرف ڈبلیو بن جائے تو انہیں پیار سے سمجھائیں کہ وہ ایسا نہ کریں۔

 

ڈبلیو کی صورت میں ٹانگوں کو سکیڑ کر بیٹھنے سے تمام ماہرین منع کرتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بچے دو سال تک مختلف انداز سے بیٹھنا سیکھ جاتے ہیں اور یوں وہ دوسال بعد بیٹھنے کے کئی تجربات کرتے رہتے ہیں۔ اس لیے ان پر نظر رکھنا ضروری ہوتا ہے۔

 

امریکی میں پیڈیاٹرک تھراپی سینٹر کے ماہرین نے اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے کہنا تھا کہ اس سے ٹانگوں کی قوت کم ہوتی ہے، وہ توازن پیدا نہیں کرپاتے اور ان کی جسمانی حرکات و سکنات کا ’موٹرنظام‘ متاثر ہوسکتا ہے۔ غالب امکان ہے کہ اگر کوئی بچہ اس طرح بیٹھنے کی عادت میں مبتلا ہوجائے تو وہ دوڑنے اور اچھل کود کی درست صلاحیت حاصل نہیں کرپاتا۔

 

بعض ماہرین نے یہاں تک خبردار کیا ہے کہ اس طرح کولھے کے جوڑ زبردست متاثر ہوتے ہیں اور ٹانگوں کے جوڑوں میں اینٹھن پیدا ہوسکتی ہے۔ یہاں تک کہ بچوں میں پیروں کا انگوٹھا موڑ کر چلنے کی عادت پیدا ہوجاتی ہے جو مزید تباہ کن ہے۔

 

اسی وجہ سے ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ اگر ایک دو مرتبہ بچے کو اس طرح بیٹھے دیکھا ہے تو اس کی نگرانی کو یقینی بنائیں اور اس طرح بیٹھنے کی عادت سے جلد از جلد چھٹکارا دلائیں۔

احمد علی کیف  1 ماه پہلے

متعلقہ خبریں