سندھ حکومت کا سال 2019ء، وفاق کی جانب سے عدم تعاون کے شکوے جاری

کراچی(منیر ساقی) سندھ حکومت کے سال دوہزار انیس میں بھی وفاق کی جانب سے عدم تعاون کے شکوے جاری رہے، کبھی فنڈز کی کمی اور کبھی اہم سرکاری عہدوں پر تعیناتیوں کے حوالے سے شور وغوغا کیا جاتا رہا۔ رواں برس صوبائی حکومت نے کراچی میں 9 میگا منصوبوں کا افتتاح کیا۔

 

سال دوہزار انیس کے دوران وفاقی حکومت نے سندھ میں تبدیلی کے بڑے بڑے خواب دیکھے۔ گورنر سندھ عمران اسماعیل نے اپوزیشن سے رابطے کئے۔ پیپلزپارٹی میں فارورڈ بلاک بنانے کی باتیں کیں تو کبھی گورنر راج کے نفاذ کی چہ میگوئیاں ہوتی رہی۔ لیکن تبدیلی کے سارے خواب ادھورے اور دم توڑ گئے۔ حکومت سندھ شدید دباؤ کا شکار رہی، نیب کاروائیوں کا خطرہ ایک طرف تو دوسری جانب صوبائی حکومت وفاق سے ایک سو ارب سے زائد کی رقم ادا نہ کرنے پر مالی مشکلات کا رونا روتی رہی، تھرکول پاورپلانٹ سے 660 میگاواٹ نیشنل گرڈ کو منتقل کی گئی۔

 

سکھر سمیت مختلف اضلاع میں این آئی سی وی ڈی کے سیٹلائیٹ سینٹر اور شہر قائد میں پانچ سے زائد میگا منصوبے بھی مکمل کئے۔ صوبے بھر میں روڈ سیکٹر اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت تعلیم۔ صحت کے شعبے میں کئی منصوبے مکمل کئے گئے۔ شہرقائد کیلئے ماس ٹرانزٹ پروگرام کے تحت کوئی ٹرانسپورٹ کا منصوبہ بھی شروع ہو سکا نہ ہی کے فور۔ ایس تھری اور سرکلر ریلوے پر کوئی کام ہو سکا۔ حکومت سندھ کروڑوں روپے خرچ کرنے کے باجود شہر سے کچرا اٹھانے میں بھی ناکام رہی۔

 

عطاء سبحانی  3 ماه پہلے

متعلقہ خبریں