یمن جنگ: ہلاکتوں اور بھوک کی علامت

یمن میں جاری جنگ معصوم بچوں کو زندگیاں نگلنے لگی۔ 2015 سے اب تک پچاسی ہزار بچے جنگ میں جاں بحق ہو چکے ہیں۔ مرنے والے بچوں کی عمریں پانچ برس یا اس سے بھی کم تھیں۔ دوسری جانب اس جنگ میں 80لاکھ افراد غذائی قلت کا بھی شکار ہوئے۔

یمن میں جاری خانہ جنگی دنیا کی خوبصورتی کو ابھی پوری طرح نہ دیکھنےوالی ننھی جانوں کو نگلنےلگی۔ 2015 سےشروع ہوانےوالی لڑائی کےبعد تقریباً پچاسی ہزاربچے ہلاک ہو چکے ہیں، جن کی عمریں پانچ سال اور اس سے کم ہیں۔ بچوں کی امدادی تنظیم سیو دی چلڈرن کےمطابق بچوں کی ہلاکت خوراک کی کمی،بیماریوں اوربھوک کی وجہ سے ہوئی ہےجبکہ لڑائی میں ہلاک بچوں کی تعداد کہیں زیادہ ہے۔

رپورٹ کےمطابق خوراک کی کمی سے بچوں کے کئی جسمانی اجزا بتدریج غیرفعال ہونا شروع ہو گئےہیں۔ دوسری جانب اقوام متحدہ نے بھی کہا ہے کہ یمن میں تیرہ لاکھ بچے غذا کی شدید کمی کا سامنا کر رہے ہیں۔یمن کوشدید انسانی بحران کاسامنا ہے جہاں 80 لاکھ سے زائد افراد شدید بھوک کا شکار ہیں۔

احمد علی کیف  3 ہفتے پہلے

متعلقہ خبریں