یوٹرن خان

عاتکہ آئیلش حسین

 

قائد اعظم کا قول ہے"فیصلے کرنے سے پہلے سوبار سوچو اور جب فیصلہ لے لو تو پھر اس پر قائم رہو" آج سے ایک سال قبل ایسے بہت سے اقوال پاکستان کے موجودہ وزیر اعظم عمران خان اپنی تقریروں میں سنایا کرتے تھے اور یہ ببانگ دہل کہا کرتے تھے کہ وہ قائد کے نقشے قدم پر چل رہے ہیں جب وہ کوئی فیصلہ کر لیں تو پھر پیچھے نہیں ہٹتے۔پر ہوا کچھ یوں کے اقتدار میں آنے کے بعد وزیراعظم عمران خان نے اس قدر اپنے بیانات سے یوٹرن لیے کہ نہیں یوٹرن کا لقب ہی مل گیا ۔کل کو قائد کے نقش قدم پر چلنے والے خان صاحب آج اپنے یوٹرنز کا دفاع کرتے نظر آرہے ہیں ۔آج خان صاحب کا کہنا ہے کہ تاریخ میں نیپولین اور ہٹلر نے یوٹرن نہ لے کر تاریخی شکست کھائی۔یوٹرن لینا بہترین قائدانہ صلاحیت ہے اور حالات کے مطابق یوٹرن نہ لینے والا کبھی کامیاب لیڈر نہیں ہوتا۔

 

کل قائد کے اقوال سنانے والے خان صاحب آج کیا انہیں اقوال کی نفی کرنے لگے؟

عمران خان صاحب نے ایک سال میں ہی یوٹرنز کی کئی سنچریاں بناڈالیں ۔خان صاحب کہا کرتے تھے کہ ان کے اقتدار میں آنے کے بعدکروڑوں نوکریوں کی بارش ہوگی اور آج کروڑوں لوگ بیروزگار ہوگئے ۔45 روپے کا پیٹرول ملے گا اور آج پٹرول کی قیمت 100 روپے سے تجاوز کر چکی ہے۔ بھیک نہیں مانگوں گا پر آج خان صاحب دوسرے ممالک سے مدد کے لیے اپیل کر رہے ہیں۔ آئی ایم ایف سے قرضہ نہیں لوں گا خودکشی کرلوں گا پر خودکشی کو تو دور کی بات عمران خان صاحب آج آئی ایم ایف سے قرضہ مانگ رہے ہیں۔کاروبار وافر ہونگے فیکٹریاں لگیں گی اور آج لوگوں کے سابقہ کاروبار اور فیکٹریاں تباہ ہوتی نظر آرہی ہیں۔ خان صاحب لوگوں کو علاج کی سہولت کا بھی کہا کرتے تھے کہ ان کے دور میں علاج فری ہوگا جبکہ آج گورنمنٹ ہسپتالوں میں ٹیسٹوں کے لیے بھاری فیسیں مقرر کردی گئیں۔سستی روٹی کا دعوی کرنے والے خان صاحب نے غریب آدمی کو اتنا ریلیف دیا کہ مہنگائی اور بے روزگاری دن بدن بڑھتی چلی جارہی ہے بجلی، گیس ،پانی ،آٹا، چینی، دال اور سبزیوں کی قیمتیں آسمانوں سے باتیں کر رہی ہیں۔اتنے ریلیف دینے کے ساتھ ساتھ عمران خان  اپنے حریفوں کے بارے میں بھی بہت سے ارشادات فرمایا کرتے تھے کے پرویز الہی سب سے بڑا ڈاکو ہے اور اقتدار میں آنے کے بعد فرمایا کہ پرویز الٰہی اور ہم مل کر کرپشن کے خلاف لڑیں گے اور پھر آج وہی ڈاکو نفیس ترین لوگوں میں شامل ہوگیا۔

 

کپتان نے بابراعوان کو بھی چور کہا اور پھر اسی چور کو اپنا وکیل رکھ لیا۔شیخ رشید کومیں اپنا چپڑاسی بھی نہ رکھوں اور پھر ایسا یوٹرن لیا گیا کہ آج خان صاحب کہتے نظر آتے ہیں کے شیخ رشید اور ان کی سوچ ایک سی ہے۔آصف علی زرداری کوخان صاحب نے بیماری قرار دیا اور پھر سینیٹ میں اسی بیماری کو ووٹ بھی دے دیا ۔خان صاحب فرمایا کرتے تھے کہ میرے لوگوں کو خریدا نہیں جا سکتا اور پھر کہا کہ سینٹ الیکشن میں میرے لوگ بک گئے۔ خان صاحب خان آج جس پارلیمنٹ میں بیٹھے ہیں کل اسی پارلیمنٹ کو گالیاں دیا کرتے تھے کہ وہ ایسی پارلیمنٹ پر لعنت بھی نہیں بھیجتے ۔کپتان پنجاب میں میٹرو بس کے ایلی ویٹڈ ٹریک پر بھی تنقید کیا کرتے تھے کہ دنیا کے کسی ملک میں بس اوپر ہوا میں نہیں چلتی اور پھر پشاور میں ایلی ویٹڈ ٹریک بنا ڈالا۔اگر عہدوں کی بات کریں تو خان صاحب کہا کرتے تھے کہ اہم عہدوں پر تعیناتی میرٹ پر ہوگی نجم سیٹھی کی بطور پی سی بی چیئرمین تقریری  پر تو اس طور پر انھوں نے نواز حکومت کو  آڑے ہاتھوں لیا بلکہ چیئرمین پی سی بی تعیناتی کا اختیار وزیراعظم کے پاس ہونے کے بھی خلاف تھے لیکن وزیراعظم بننے کے بعد انہوں نے اپنے دوست احسان مانی کو پی سی بی کا چیئرمین تعینات کردیا۔ اسی طرح پروٹوکول نہیں لوں گا، پہلے تین ماہ میں وزیراعظم کے بیرونی ملک دوروں پر پابندی ہوگی،گورنر ہاؤس پر بلڈوزر چڑھاوں گا،وزیراعظم ہاؤس کو یونیورسٹی بناؤں گا،تین ہزار قیدی سعودی جیل سے چھڑواؤں گا بربعد میں صرف ماموں کا بیٹا کامران ہی وطن  واپس لوٹا،سائیکل پر وزیراعظم ہاؤس جاؤنگا،عافیہ صدیقی کو وطن واپس لاؤں گا وغیرہ وغیرہ اور پھر یہ سب باتیں وفا ہوگئیں اور خان صاحب دن رات یوٹرن پر یوٹرن لیتے چلے آرہے ہیں۔پاناما اسکینڈل کی بات کریں تو خان صاحب فرماتے کہ ہمارے پاس ثبوت ہیں لیکن جب ثبوت عدالت نے مانگے تو کہا ثبوت دینا حکومت کا کام ہے اسی طرح جب خود خان صاحب پر کیس ہوا تو کہا کہ ثبوت وہ دیتا ہے جو الزام لگاتا ہے۔

 

بنی گالہ کے بارے میں خان صاحب کا بیان تھا کہ کائونٹی کے پیسوں سے خریدا پھر اچانک یوٹرن لیا اور کہا نہیں نہیں بنی گالہ تو جمائما نے گفٹ کیا۔اپنے خطابات میں خان صاحب شور مچایا کرتے تھے کہ آف شور کمپنیاں رکھنے والے چور ہیں پھر جب اپنی نکل آئیں تو کہا کہ میں نے تو اس لیے بنائیں تاکہ ٹیکس بچاسکوں ۔کپتان کہا کرتے تھے کہ نواز شریف کے استعفے تک شادی نہیں کروں گا لیکن پھر دھرنے کے دوران ہی کہہ دیا کہ دھرنا اسی لیے دے رہا ہوں تاکہ میں شادی کر سکوں۔ریحام خان کی طلاق کی بات کریں تو کہا کہ طلاق کی باتیں میڈیا کر رہا ہے سب جھوٹ بول رہے ہیں لیکن جب طلاق ہوگئی تو فرمایا کہ طلاق میرا ذاتی مسئلہ ہے اور کوئی اس پر گفتگو نہ کرے۔ خان صاحب فرمایا کرتے تھے کہ دھرنا ہی تمام مسائل کا حل ہوتا ہے پھر ایسا  یوٹرن لیا کہ آج جب اپوزیشن جماعتیں اسلام آباد میں دھرنا دے رہی ہیں تو کہا کہ دھرنا مسائل کا حل نہیں ہوتا۔کپتان فرمایا کرتے تھے کہ چند افراد مل کر گو عمران گو کا نعرہ لگا دیں تو اگر مجھ میں غیرت ہوئی تو میں اسی وقت استعفی دے جاؤنگا۔ دھاندلی کے الزامات اگر کسی حلقے پر لگے تو اسی حلقے کو دوبارہ کھولوں گا پر آج جب دھاندلی کا اپوزیشن شور مچا رہی ہے تو خان صاحب آئینی حقیقی شفاف الیکشن کا نعرہ لگاتے نظر آرہے ہیں ۔خان صاحب کا فرمان تھا کہ اپوزیشن اگر الیکشن کا مطالبہ کرے میں اسی وقت پرویزخٹک کو کہوں گا کہ پرویز الیکشن کی فورا تاریخ رکھی جائے پر آج جب تمام سیاسی جماعتیں الیکشن اور استعفے کا مطالبہ کر رہی ہے تو خان صاحب کی آنکھوں پر پٹی بندھی ہوئی ہے اور کانوں میں ڈاٹ ہے پر صرف  زبان کھلی ہے۔

 

خان صاحب نے اتنے یوٹرنز لیے کہ ایک سال میں کئ سنچریاں مکمل کر ڈالیں پر پھر بھی کپتان نہیں شرمایا اور آج بھی ناصرف مطمئن کھڑا ہے بلکہ ریاست مدینہ بنانے میں مصروف ہے  ۔ یقینا اتنے یوٹرنز دیکھ کر  قائداعظم جیسے بااصول آدمی کی روح بھی تڑپ گئی ہوگی۔

 

خان صاحب نے اتنے یوٹرن لئے کہ ان کی پہچان ہی یوٹرن خان بن گئ ۔اسی بارے میں مولا علیؑ کے اس قول کی زندہ تصویر آج ہمیں نظر آ رہی ہے۔

 

"قول امام علیؑ، احمق اپنی توہین محسوس نہیں کرتا"

احمد علی کیف  3 ہفتے پہلے

متعلقہ خبریں