ننھی زینب کے قاتل کو17 اکتوبرکو پھانسی دی جائے گی

لاہور (پبلک نیوز) قصور کی نھنی زینب کا سفاک قاتل اپنے انجام کو پہنچ گیا۔ انسداد دہشت گردی عدالت کا تیز ترین ٹرائل 7 مقدمات پر فیصلے سنائے۔ سفاک قاتل نے قصور میں نو بچیوں کو درندگی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کیا تھا۔ 

تفصیلات کے مطابق انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے جج سجاد احمد روزانہ کی بنیاد پر کوٹ لکھپت جیل میں سماعت کر کے تیز ترین ٹرائل مکمل کیا۔ عدالت نے مجرم کے بلیک وارنٹ جاری کرتے ہوئے 17 اکتوبر کو عمران کو تختہ دار پر لٹکانے کا حکم دے دیا۔ عدالت نے نور فاطمہ، مہرین، لابئہ، عمر، کائنات بتول، عائشہ آصف، ایمان فاطمہ کے مقدمات کا فیصلہ سناتے ہوئے 21 بار سزائے موت اور 300لاکھ روپے جرمانے کی سزا بھی سنا رکھی ہے۔

سفاک قاتل عمران نے قصور میں نھنی بچیوں کو زیادتی کے بعد قتل کر دیا تھا۔ 7 سالہ نور فاطمہ کو عمران نے 11 اپریل 2107 کو قصور امین ٹاون سے اغوا کی اور 2 فرلانگ کے فاصلے پر زیر تعمیر مکان میں زیارتی کے بعد قتل کردیا۔ مجرم کے خلاف تھانہ صدر قصور میں مقدمہ درج ہوا۔

8 سالہ لائبہ عمر کو بستی خادم آباد سے 8 جولائی 2017 کو اغوا کیا اور 500 میڑ فاصلے پر شاہ عنایت کے قریب زیر تعمیر مکان میں درندگی کا نشانہ بنایا اور قتل کیا۔ 6 سالہ کائنات بتول 12 نومبر 2017 قصور گارڈن سے اغوا کیا۔ درندہ صفت نے لکڑی کے ٹال میں رات گئے زیادتی کا نشانہ بنایا اور پھینک دیا۔ موجزانہ طور کائنات بتول زندہ بچ گئی اور تشویشناک حالت میں ابھی بھی زیر علاج ہے۔

12 سالہ عائشہ آصف 7 جنوری 2017 قصور بی ڈویژن سے اغوا کیا گیا معصوم کلی کو سیٹھی کالونی کے قریب زیر تعمیر مکان میں درندگی کے بعد قتل کیا گیا 8 سالہ نورین کو حیات آباد سے 9 جولائی 2017 کو اغوا کیا اور ندرون موری گیٹ قصور کے قریب زیادتی کے بعد قتل کر دیا۔ 4سالہ ایمان فاطمہ کو سفاک قاتل نے 24 فروری 2017 کو قصور علی پارک سے اغوا کیا اور آدھا کلو میٹر کے فاصلے پر زیر تعمیر مکان میں زیادتی کا نشانہ بنایا اور قتل کر ڈالا جبکہ پولیس اس کیس میں پہلے ہی جعلی پولیس مقابلے میں مدثر نامی نوجوان کو پار کر چکی ہے۔

حارث افضل  1 ہفتے پہلے

متعلقہ خبریں