’’سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر (ن) لیگ کا ہو گا ‘‘

لاہور (پبلک نیوز ) مریم نواز شریف نے کہا ہے کہ حمزہ شہباز کیساتھ ان کے کوئی اختلاف نہیں ٗ یہ پروپیگنڈہ ایک بار پھر ناکام ہو گا ٗ ہم عمران خان سے ناقص کارکردگی پر جواب لیں ۔

جاتی امرا میں ملاقات کے بعد مسلم لیگ(ن) کی نائب صدر مریم نواز شریف اور پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔ اس موقع پر مریم نواز شریف نے کہا کہ کوشش تو ہماری یہی ہے کہ تمام جماعتیں متحد رہیں ٗ لیکن عمران خان کا مستقبل پی ڈی ایم سے نہیں جڑا ٗ عمران خان اور اس کی جعلی حکومت کا مستقبل اس کی کارکردگی سے جڑا ہے ٗ پی ڈی ایم میں پیپلز پارٹی کیا کر رہی ہے ٗ پی ڈی ایم کیا کر رہی ہے ٗ اس سے قطع نظر نااہلی اور نالائقی نے پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے ٗ اس کا جواب بہرحال عمران خان کو ہی دینا ہے ٗ پی ڈی ایم کو اس کا جواب نہیں دینا۔

مریم نواز نے کہا کہ پی ڈی ایم اتنی متحد ہے کہ عمران خان سے یہ جواب پورے زور و شور سے مانگے گی ٗ عوام کی نمائندگی کرے گی اور کسی موقع پر حکومت کو کوئی لیوریج نہیں دے گی ٗ حکومت کو پتلی گلی سے نکلنے کی اجازت نہیں دے گی اور عوام کی بھرپور نمائندگی کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم کا یہ متفقہ فیصلہ تھا کہ سینیٹ چیئر مین کیلئے یوسف رضا گیلانی کی حمایت کی جائے گی۔ ڈپٹی چیئر مین کیلئے جمعیت علما (ف) کے حیدری صاحب کی حمایت ہو گی جبکہ اپوزیشن لیڈر مسلم لیگ(ن) کا ہو گا ٗ اب چونکہ یہ اصولی فیصلہ ہو چکا ہے اور کسی کی ہار جیت کے بعد اس میں تبدیلی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ کوئی ہار جائے گا تو اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہو گی ٗ میں امید کرتی ہوں کہ اصول کے تحت تمام جماعتیں اس فیصلے پر کھڑی رہیں گی۔

مریم نواز شریف نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے پی ڈی ایم کا حصہ رہنا ہے یا نہیں ٗ یہ ان کا فیصلہ ہے۔ میں اس پر کوئی تبصرہ نہیں کر سکتی ۔ مسلم لیگ(ن) عوامی احتجاج کر سکتی ہے ٗ بڑے جلسے نا صرف کر سکتی ہے بلکہ جمعیت علما اسلام نے بڑے بڑے جلوس کئے ۔ اس کیلئے ہمیں کسی اور کی ضرورت نہیں۔ لیکن یہ بہتر ہو گا کہ ساری اپوزیشن عوام کے مطالبوں پر متحد ہو۔عوام کے اندر اس حکومت کو برداشت کرنے کی مزید سکت نہیں ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ حمزہ شہباز شریف سے اختلافات کی جو خبریں ایک دو دن سے چل رہی ہیں وہ بہت شرمناک ہیں ٗ میں یہ کہتی ہوں کہ اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو جھوٹوں پر ٗ حمزہ صاحب ابھی ہماری ملاقات میں شامل تھے ٗ ایک ایک چیز میں وہ شامل تھے۔ ان کی بیٹی جس کی ہارٹ کی سرجری ہوئی تھی ٗ اس کے ڈاکٹر آئے ہیں وہ وہاں مصروف ہیں ٗ تیس سال سے یہ پروپیگنڈہ ناکام ہوا ہے تو ابھی بھی یہ ان کے منہ پر جاکر لگے گا ۔

مولانا فضل الرحمن نے اس موقع پر کہا کہ پیپلز پارٹی تو بڑی جماعت ہے ٗ اگر ایک چھوٹی سے جماعت بھی اپنا کوئی موقف رکھتی ہے تواس کو بھی مثبت انداز میں برابری کی بنیاد پر ڈسکس کر سکتے ہیں۔پیپلز پارٹی پی ڈی ایم کی ایک بڑی جماعت ہے ٗ ہم ان کی شکایت اور رائے پر ان کے ساتھ بات کرتے رہیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں