پاکستانی بزنس مین سنی علی کے ارب پتی بننے کی متاثر کن کہانی

لندن ( ویب ڈیسک ) برطانیہ میں اپنی کمپنی ’’ایکسٹریم کامرس‘‘ سے ارب پتی بننے والے سنی علی کا کہنا ہے کہ اگر انہیں پہلے کوئی بتاتا کہ میں غلط کاروبار میں اپنا وقت ضائع کر رہا ہوں تو میں بہت خوش ہوتا ۔ پاکستانی نژاد برطانوی بزنس مین سنی علی کا ماننا ہے کہ یہ وقت جدید ٹیکنالوجی کو سیکھنے اور درست راستے پر محنت کرنے کا ہے۔ سنی علی کیسے ارب پتی بنے ٗ ان کی کہانی بہت مزیدار ہیں اور وہ خود ہی اس کا خلاصہ کرتے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق سنی علی کا ادارہ ’’ایکسٹریم کامرس‘‘ گزشتہ سالوں میں پاکستان کا سب سے بڑا ای کامرس پلیٹ فارم بن کر ابھرا ہے۔ ایک ایسا پلیٹ فارم جو خاص طور پر ابھرتے ہوئے فری لانس اور تاجروں کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے وقف ہے ، علی کے وژن نے ہزاروں پاکستانیوں اور دنیا بھر کے لوگوں کو متاثر کیا۔ سنی علی اس وقت اپنے پلیٹ فارم سے ملین ڈالر انڈسٹری بنا چکے ہیں اور اس کا مقصد پاکستان کو ای کامرس میں دنیا کا دارالحکومت بنانا ہے۔


سنی علی نے اپنے سوشل میڈیا اکائونٹ پر ایک پوسٹ شیئر کی جس میں انہوں نے کہا کہ چھ سال پہلے میں نے لندن میں اپنے نئے کو بنانے کے بعد یہ پوسٹ شیئر کی تھی ٗ سب نے اس نے تبصرے کئے ’’ مبارک ہو ٗ مبارک ہو ٗ واہ کیا بزنس ہے‘‘اب میرے ساتھ کام کرنے والے سب اس بارے میں جانتے ہیں اور کہتے ہیں ’’ سبحان اللہ ٗ کیا بزنس تھا آپ کا؟ بس ایک ٹکا نہیں بنتا تھا ‘‘۔

اور یہی وہ بات تھی جو ہم نے سلیکون ویلی میں کہی ’’جھوٹا بنائو ٗ جب تک تم اسے سچ نہ بنا لو‘‘۔ کیا جھوٹی زندگی تھی میری ٗ ویسے کیا بی ایم ڈبلیو تھی میری ٗ گاڑی بہت اچھی تھی ٗ بس پٹرول کے پیسے نہیں ہوتے تھے۔کاش کسی نے مجھے پہلے حضرت علی ؓ کا وہ قول بتا دیا ہوتا ۔ ’’اللہ سے نصیب کی دعا مانگو ٗ میں نے بڑے بڑے عقلمندوں کو نصیب والوں کے در پر دیکھا ہے ‘‘۔ کاش ٗ اے کاش ٗ یہ صرف ایک قول میری زندگی بدل سکتا تھا جب میں تیسری بار 2015میں بنک کرپٹ ہوا تھا۔

مجھے زندگی بیس سال لگ گئے پہلا 10لاکھ ڈالر کمانے میں ٗ ددوسرا ملین ڈالر میں نےاگلے دو سالوں میں کما لیا اور تیسرا ملین ڈالر میں نے ایک ہی سال میں کمایا ٗ کاش اس وقت میرے پاس ’’ایکسٹریم کامرس‘‘ جیسا کوئی ادارہ اور سکھانے والے تو جو مجھے بے باکی سے کہتے ’’ یہ گھٹیا کاروبار بند کرو اور اپنی فورک لفٹ کوڑے میں پھینک دو اور واپس ملائشیا چلے جائو ٗبے وقوف شیخ چلی ٗ سیکھو کہ کاروبار کیسے کھڑا کیا جاتا ہے‘‘۔کاش کوئی یہ سب مجھ سے کہتا مگر مسئلہ یہ ہے کہ سب یہی کہہ رہے تھے ’’ سبحان اللہ ٗ کیا کاروبار ہے آپ کا ؟ کیا انسان ہیں آپ ؟ ۔سنی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں