این سی او سی نے سخت پابندیاں لگانے کا عندیہ دے دیا

اسلام آباد(پبلک نیوز) نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کے سربراہ اور وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر نے خبردار کیا ہے کہ اگر کورونا صورتحال میں بہتری نہیں آتی تو سخت فیصلے کیے جاسکتے ہیں۔

اسد عمر کی زیر صدارت این سی او سی کا اجلاس ہوا، اجلاس کے بعد میڈیا بریفنگ میں ان کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کی برطانوی قسم زیادہ خطرناک ہے جو خطے میں تیزی سے پھیل رہی ہے، گزشتہ ہفتوں میں جو فیصلے کیے گئے ان پر اس طرح عمل نہیں ہورہا جیسے ہونا چاہیے تھا۔

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر کا یہ بھی کہنا تھا کہ لوگوں کواندازہ نہیں کروناکی تیسری لہرکتنی خطرناک ہے، گزشتہ 5 روزمیں کروناتشویشناک مریضوں میں خطرناک حدتک اضافہ ہوا، وبا کا پھیلاؤ صرف پاکستان نہیں پورے خطے میں ہے، بھارت، بنگلادیش میں کورونا کیسز میں تیزی سے اضافہ ہوا، اگر اسی رفتار سے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہوا تو ہم پہلی لہر کے لیول سے بھی اوپر چلے جائیں گے۔

وفاقی وزیر اسد نے کہا کہ پہلی لہر میں تشویش ناک حالت میں 3300 مریض تھے، تیسری لہر میں 2 ہزار 842 مریضوں کی حالت تشویشناک ہے۔ اجلاس میں پنجاب، خیبر پختونخوا اور اسلام آباد میں خطرناک حد تک بڑھتے کیسز کی صورت حال اور ملک بھر میں آکسیجن بیڈ، وینٹی لیٹرز اور دیگر طبی سہولتوں کا بھی جائزہ لیا گیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں