نہر سوئز میں پھنسے مال بردار جہاز کو نکال لیا گیا

ویب ڈیسک: نہر سوئز میں پھنسے مال بردار جہاز ایورگؤن کو ایک ہفتے بعد نکال لیا گیا، جہاز کی وجہ سے آمد و رفت کے منجمد ہونے سے اربوں ڈالرز کا نقصان ہوا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق نہر سوئز میں پھنسا بحری جہاز سیدھا کر لیا گیا ہے تاہم گزرگاہ خالی کرنے میں وقت لگ سکتا ہے۔

واضح رہے کہ 6 روز قبل یورپ اور ایشیا کو ملانے والی مصر کی نہر سوئز میں جاپانی جہاز پھنس گیا تھا جس کی وجہ سے نہر سوئز میں‌ بین القوامی تجارتی آمدرفت شدید متاثر ہوئی تھی جس کے باعث متعدد کمپنیوں کے بہری جہاز واپس افریقہ کے راستے روانہ ہو گئے تھے۔

نہر سوئز ؟
واضح رہے کہ نہر سوئز مصر کی ایک سمندری گذرگاہ ہے جو بحیرہ روم کو بحیرہ قلزم سے ملاتی ہے۔ اس کے بحیرہ روم کے کنارے پر پورٹ سعید اور بحیرہ قلزم کے کنارے پر سوئز شہر موجود ہے۔ یہ نہر 163 کلومیٹر (101 میل) طویل اور کم از کم 300 میٹر چوڑی ہے۔ اس نہر کی بدولت بحری جہاز افریقا کے گرد چکر لگائے بغیر یورپ اور ایشیا کے درمیان آمدورفت کرسکتے ہیں۔ 1869ء میں نہر کی تعمیر سے قبل اس علاقے سے بحری جہاز ایک جانب سامان اتارتے تھے اور بحیرہ قلزم تک اسے بذریعہ سڑک لے جایا جاتا تھا۔

1869 میں اس نہر کے کُھل جانے سے انگلینڈ سے ہندوستان کا بحری فاصلہ نہ صرف 4000 میل کم ہو گیا بلکہ مون سون پر انحصار بھی کم ہو گیا۔پہلے اس نہر پر برطانیہ، امریکا اور فرانس کا قبضہ تھا مگر جمال عبد الناصر نے اس نہر کو قومی ملکیت میں لے لیا جس پر برطانیہ، امریکا اور اسرائیل نے مصر سے جنگ چھیڑ دی۔

یاد رہے کہ سویز کینال کا شمار دنیا کی اہم تجارتی شاہراہوں میں ہوتا ہے۔ بحری راستوں کے ذریعے ہونے والی عالمی تجارت کا 10 فیصد حصہ اس نہر کے ذریعے اپنے مطلوبہ مقامات تک پہنچتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں