نہر سوئز سے 422جہازوں کو نکلنے میں ابھی مزید کتنے دن لگیں گے ؟

قاہرہ(ویب ڈیسک) نہر سوئز میں ’’ایور گرین‘‘ کا رخ موڑا جا چکا ہے لیکن ابھی تک اسے سفر کی اجازت نہیں ملی جبکہ چھ دنوں میں نہر سوئز میں پھنسے ہوئے 422 بحری جہازوں کو نہر سوئز سے نکلنے میں ابھی مزید 3دن لگیں گے۔

تفصیلات کے مطابق نہر سوئز میں پھنسے ہوئے ان 422جہازوں میں کنٹینر ، کارگو ، آئل ٹینکر ، اور ایل این جی یا ایل پی جی کیرئیرشامل ہیں۔تائیوان کی کمپنی ’’ایور گرین میرین‘‘ کے جہاز ’’ ایورگرین‘‘ کے چھ دنوں تک سوئز نہر میں پھنسے رہنے کی وجہ سے اس کی مالک جاپانی کمپنی کو ایک خطیر رقم کا نقصان ہوا مگر ’’ایور گرین‘‘ کو ابھی تک سفر کی اجازت نہیں ملی ہے۔

سوئز کنال اتھارٹی کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ ڈنمارک کی کمپنی ’’سمیٹ سیلویج‘‘ نے ایور گرین کو نکالنے کیلئے اپنی خدمات پیش کیں اور پیر کی صبح انوکھی ٹکنیک سے جہاز کو موڑنے میں آخر کار کامیاب ہوگئی۔ کمپنی نے اس مقصد کیلئےزمینی اور موسمیاتی تبدیلیوں کا بھی سہارا لیا ۔

ڈنمارک کی کمپنی نے ایور گرین کا رخ موڑنے کیلئے ہزاروں مکعب میٹر ریت کی تہہ بنائی ٗ جس کا وزن 224 ہزار ٹن تھا ۔ جہاز کو 2طاقتور سمندری مشینوںکے علاوہ 11 انجنوں کے ساتھ باندھا گیا اور سپر مون کے وقت کا انتظار کیا گیا۔ چاند کے اس تغیر کے بعد سمندر کی موجوں میں شدید طاقت آجاتی ہے۔

نہرسوئز میں مصر کی کمپنی کی طرف سے اعلان کیا گیا ہے کہ جب تک ایورگرین کا تکنیکی معائنہ نہیں کیا جائے گا اس وقت تک اسے سفر کی اجازت نہیں دی جائیگی۔جبکہ سوئز نہر کی انتظامیہ کی طرف سے کہا گیا ہے کہ ایور گرین اپنا سفر جاری رکھا سکتا ہے اور جب اس کا رخ موڑا گیا اس دوران ایک بھی کنٹینر کو کوئی نقصان نہیں پہنچا تھا ٗلیکن جہاز کا مکمل تکنیکی جائزہ لیا جائیگا۔

نہر سوئز کی انتظامیہ کی طرف سے اعلان کیا گیا ہے کہ دنیا کے سب سے بڑے کنٹینر بحری جہاز ایورگرین کے سائز سے ملتے جلتے جہاز نہر سوئز سے بحفاظت گزر سکتے ہیں ، اور طرح کے جہازوں کی منظوری کو قبول کرنے کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں لائی جا رہی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں