فورٹ عباس : قلعہ میرگڑھ حکومتی عدم توجہی کا شکار

ویب ڈیسک: پاکستان قدیم مقامات کی ثقافت اور سالوں کی تاریخ سے مالا مال ہے۔ ان میں سے بہت سے تاریخی مقامات صحرا چولستان میں بکھرے ہوئے ہیں۔ ان تاریخی اور اہم مقامات میں  سے ایک میر گڑھ قلعہ ہے جو تحصیل فورٹ عباس سے نو کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

قلعہ میرگڑھ عدم توجہی کے باعث مٹتی تاریخ کی شکل اختیار کر رہا ہے۔ قلعہ میر گڑھ کا بیشتر حصہ منہدم ہو کر کھنڈرات میں تبدیل ہو چکا ہے۔واضح رہے کہ قلعہ نور محمد خان نے تعمیر کیا تھا اور بہاولپور میں عباسی قبیلے کے دور میں تعمیر ہونے والے قلعوں میں سے ایک ہے۔ ڈھانچے کی دیواریں تقریبا 28، 28 فٹ اونچی ہیں اور چاروں اطراف متاثر کن گول کونے ہیں۔

قلعے میں ایک داخلی دروازہ ہے ، جو دو حصوں میں منقسم ہے ، اور چار مینار ہیں۔ ایک زمانے میں صحن کے اندر چھوٹے چھوٹے مکانات تھے اور دو میٹھے پانی کے کنویں تھے۔ تاہم وقت کے ساتھ ساتھ مکانات ملبے میں تبدیل ہو چکے ہیں جبکہ کنویں سوکھ چکے ہیں۔ یہاں تک کہ دروازہ بھی ٹوٹ گیا ہے۔

تاریخی قلعے کی خستہ حالت نے محکمہ آثار قدیمہ کی کارکردگی پر سوالات اٹھا دیئے ہیں، قلعے کو دیکھنے کے لئے دور دراز سے آنے والے سیاح اس کی حالت کی وجہ سے مایوسی کا شکار ہیں۔ سیاحوں نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت سیاحت کے فروغ کے لیے بلند وبانگ دعوے تو کرتی ہے تاہم عملی اقدامات نظر نہیں آتے۔ سیاحوں نے کہا ہے کہ حکومت قلعے کی تزئین و آرائش کرے تاکہ اس تاریخی ورثے کو آئندہ نسلوں کے لئے محفوظ کیا جاسکے۔

فورٹ عباس پبلک ویلفیئر کے جنرل سیکریٹری یاسر صدیق نے کہا کہ چولستان ریگستان کی اصل خوبصورتی اس کے تاریخی قلعوں پر مشتمل ہے۔ ان میں سے ایک میر گڑھ قلعہ دیکھنے والوں کو ایک حیرت انگیز نظارہ فراہم کرتا ہے۔

انہوں نے کہا محکمہ آثار قدیمہ کی بے حسی اور حکومت کی عدم دلچسپی کے باعث یہ قلعہ آہستہ آہستہ تباہ حالی کا شکار ہو رہا ہے۔

سماجی کارکن وسیم ٹھاکر نے کہا کہ اگر یہ قلعہ کسی دوسرے بڑے شہر جیسے کہ لاہور میں واقع ہوتے تو اس کا ڈھانچہ اب بھی اصل حالت میں برقرار رہتا، چونکہ یہ قلعہ ایک پسماندہ علاقے میں واقع ہے لہذا محکمہ آثار قدیمہ نے اس کے تحفظ میں ذرا بھی دلچسپی نہیں لی۔ ۔انہوں نے مزید کہا کہ قلعے کو مقامی این جی اوز کے حوالے کیا جائے تاکہ وہ بہت زیادہ دیر ہو جانے سے پہلے اس کی حفاظت کریں۔

ایک اور مقامی شخص نوید گل زیب چوہدری کا کہنا تھا کہ حکومت ملک بھر کے بڑے شہروں میں سیاحت کو فروغ دے رہی ہے، انہیں چولستان اور اس کے تاریخی قلعوں پر بھی توجہ دینی چاہئے، جن میں سے چھ تحصیل فورٹ عباس میں واقع ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں