مروہ السلحدار: ’’نہر سوئز کی بندش میں میرا کوئی کردار نہیں تھا ‘‘

ویب ڈیسک: گذشتہ ماہ نہر سوئز میں ’ایور گیوین‘ نامی ایک بڑے مال بردار بحری جہاز کی وجہ سے راستے کی بندش کا الزام مصری خاتون کپتان مروہ السلحدار پر عائد کیا گیا۔

مروہ السلحدار کا برطانوی نشریاتی ادارے سے گفتگو میں کہنا تھا کہ جب انہوں نے اپنا فون چیک کیا تو معلوم ہوا کہ وہ نہر سوئز کی بندش کی ذمہ دار ہیں، مصر کی پہلی بحری کپتان مروہ کا کہنا ہے کہ وہ ان عجیب و غریب الزمات پر حیران رہ گئیں۔ سوئز نہر کی بندش کے وقت مروہ السلحدار اسکندریہ میں مصر کے بحری جہاز ایڈا چہارم پر اپنے فرائض سرانجام دے رہیں تھیں۔ یہ جہاز مصر کی سمندری حفاظت کی اتھارٹی کی ملکیت ہے، اس کا استعمال میری ٹائم ٹرانسپورٹ کے کیڈٹوں کو تربیت دینے کے لئے بھی ہوتا ہے۔

مروہ السلحدار کے نہر سوئز کی بندش میں کردار کے بارے میں افواہوں میں کہا گیا تھا کہ وہ اس واقعے میں ملوث تھیں۔ افواہوں پر مبنی خبروں کو ٹویٹر اور فیس بک پر سیکڑوں بار شیئر کیا گیا۔

29 سالہ مروہ السلحدار نے ایک انٹریو میں بتایا کہ انہیں نہیں معلوم کہ سب سے پہلے اس جھوٹی کہانی کو کس نے پھیلایا۔ انہوں نے کہا مجھے لگا کہ شاید مجھے نشانہ بنایا گیا ہے کیونکہ میں اس فیلڈ میں ایک کامیاب خاتون ہوں یا پھر اس وجہ سے کہ میں مصری ہوں۔

تاہم یہ پہلی بار نہیں ہے جب خواتین کو مردوں کے زیر اثر صنعتوں میں چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑا ہو۔ بین الاقوامی میری ٹائم آرگنائزیشن کے مطابق بحری صنعت میں خواتین کا حصہ صرف 2٪ ہے۔ مروہ کا کہنا تھا کہ وہ ہمیشہ سے سمندر سے پیار کرتی تھیں، اور انہیں اپنے بھائی کے اس شعبے میں آنے کی وجہ سے مرچنٹ نیوی میں شامل ہونے کی تحریک ملی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ اکیڈمی اس وقت صرف مردوں کو ہی داخلہ دیتی تھی بہرحال انہوں نے بھی درخواست دی تھی اور مصر کے اس وقت کے صدر حسنی مبارک کے قانونی جائزہ لینے کے بعد اس میں شمولیت کی اجازت ملی۔ انہوں نے مزید کہا ہمارے معاشرے کے لوگ طویل عرصے تک اپنے گھر والوں سے دور سمندر میں کام کرنے والی لڑکیوں کو قبول نہیں کرتے ہیں لیکن جب آپ وہ کرتے ہو جو آپ پسند کرتے ہو، تو آپ کے لیے ہر ایک کی منظوری لینا ضروری نہیں ہوتا ہے۔

اکیڈمی سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد مروہ سکینڈ ان کمانڈ بنیں اور وہ 2015 میں توسیع شدہ سوئز نہر پر جانے والے پہلے بحری جہاز کا حصہ تھیں، انہوں نے اس وقت ایڈا 4 جہاز کی کپتانی بھی کی۔ وہ سب سے کم عمر اور پہلی مصری کپتان تھیں جنہوں نے نہر سوئز کو عبور کیا۔ 2017 میں مروہ کو مصری حکومت نے یوم خواتین کی تقریبات کے موقع پر اعزاز سے نوازا تھا۔

مروہ کا مزید کہنا تھا کہ سوئز کی راہ میں رکاوٹ کے بارے میں اپنے کردار پر جب انہوں نے جھوٹی خبروں کو پڑھا تو یہ خوف ہو گیا تھا کہ یہ پروپیگنڈا کہیں انکے کام اور ترقی پر اثرانداز نہ ہو جائے۔ انہوں نے کہا “یہ جعلی مضمون انگریزی میں تھا لہذا یہ دوسرے ممالک میں بھی پھیل گیا، میں نے مضمون میں موجود باتوں کی نفی کرنے کی بہت کوشش کی کیونکہ اس سے میری ساکھ متاثر ہورہی تھی، جھوٹے آرٹیکل پر تبصرے بہت منفی اور سخت تھے لیکن کئی عام افراد اور جن لوگوں کے ساتھ میں کام کرتی ہوں ان کی طرف سے حمایت میں بھی تبصرے سامنے آئے جس سے میراحوصلہ بڑھا۔

مروہ نےکہا میرا ان خواتین کے لئے پیغام ہے جو بحری شعبے میں کام کرنا چاہتی ہیں کہ اس چیز کے لئے لڑوں، جس سے آپ محبت کرتی ہیں اور کسی قسم کی منفی سوچ کو اپنے پر اثرانداز نہ ہونے دو۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں