’’جاوید لطیف کسی اور ملک کی نیشنلٹی لے لیں‘‘

لاہور ہائی کورٹ میں لیگی ایم این اے جاوید لطیف کے مقدمے کے اخراج کی درخواست پر سماعت ہوئی. چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس قاسم خان نے جاوید لطیف کی درخواست پر سماعت کی۔

دوران سماعت چیف جسٹس قاسم خان نے ریمارکس دیئے کہ ہماری حب الوطنی ہے یا حب الشخصی ہے، پاکستان کی اسمبلیوں میں حلف لینے والے اپنے گریبان میں جھانکیں، جاوید لطیف چھوڑ دیں پاکستان، کسی اور ملک کی نیشنلٹی لے لیں۔

چیف جسٹس قسم خان نے کہا کالے کوٹ والوں نے پاکستان بنانے میں کردار ادا کیا تھا،پاکستان کھپے کا نعرہ نہ لگانے والوں کو لوگ چیونٹیوں کی طرح مسل دیں گے۔

درخواست میں جاوید لطیف نے اپنے خلاف مقدمے کو چیلنج کیا ہے۔ جاوید لطیف نے موقف اپنایا کہ پنجاب پولیس کی جانب سے بے بنیاد الزامات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے، حکومت کی جانب سے سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، حکومتی مقدمے میں ماتحت عدالت سے عبوری ضمانت حاصل کر رکھی ہے، درخواست گزار ایک سیاسی کارکن ہے، عوامی نمائندگی کے مینڈیٹ کے تحت قانون کی پاسداری پر یقین رکھتا ہے۔

جاوید لطیف نے استدعا کی کہ درخواست گزار کے خلاف درج مقدمے کو کالعدم قرار دینے کا حکم دیا جائے اور عدالت اس معاملہ پر ایکشن لے۔چیف جسٹس قاسم خان نے کہا کہ جو شحض ملک کے خلاف بات کرے میں اس کو ریلیف نہیں دوں گا، پہلے اس ملک کے خلاف بات کرنا پھر اس ملک کی عدالتوں سے ریلیف لینے آجانا، کسی کی جرات ہے جو پاکستان کے خلاف بات کرے، یہاں شخصیات اہم نہیں ملک کا آئین اہم ہے، شخصیات آتی جاتی رہتی ہیں ادارے قائم رہتے ہیں۔

بعدازں جاوید لطیف کے وکیل نے درخواست واپس لے لی، عدالت نے درخواست واپس لینے کی بنیاد پر نمٹا دی۔

لاہور ہائیکورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو میں جاوید لطیف کا کہنا تھا کہ 73 سالوں سے غداری کے ٹائیٹل لوگوں پر لگائے جاتے رہے ہیں،ایٹمی صلاحیت کے باوجود کہا جا رہا ہے کہ اندرونی حالات درست نہیں، آزاد کشمیر بھی جانے کی باتیں کی جا رہی ہیں، جو غداری کے سرٹیفکیٹ بانٹتے ہیں ان کو سوچنا چاہیے، عوامی نمائندہ ہونے کا حق اس وقت تک ادا نہیں ہوتا جب تک حقائق بیان نہ کیے جائیں،بینظیر بھٹو نے کہا تھا ان کی زندگی کو خطرہ ہے لیکن ریاست نے کچھ نہیں کیا، صرف پاکستان زندہ باد کہنے سے کچھ نہیں ہو گا، غلطیوں کی نشاندہی کرنی چاہیے، آپ غداری کے ٹائیٹل دیتے ہیں اور عوام زندہ باد کہتے ہیں۔

انہوں نے کہا اگر ایسے حالات میں پھانسی بھی چڑھ جائوں تو افسوس نہیں، ایسے پالیسیاں نہ بنائو کہ غدار پیدا ہوں،میں اپنے موقف پر قائم ہوں اگر غلط ہوتا تو بیان واپس لیتا، آئینی اور قانونی اداروں پر اعتماد ہے اس لیے درخواست واپس لی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں