امریکی ریپر جے زیڈ کی شرٹ پر’مسجد کی شبیہہ‘پر تنازع

معروف امریکی ریپر جے زیڈ کی شرٹ پر کینیا کی تاریخی ریاض مسجد کی شبیہہ بنانے پر مذہبی حلقوں کی جانب سے اعتراض کیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق ایک امریکی فیشن ڈیزائنر نے کینیا کے جزیرے لامو میں ایک تاریخی مسجد کی شبیہہ استعمال کرنے سے معذرت کر لی ہے، یہ شرٹ مشہور امریکی ریپر جے زیڈ نے پہنی تھی۔ لامو میں ریاض مسجد کی انتظامیہ کی جانب سے اس شرٹ پر اعتراض کیا گیا تھا۔ مسجد کے عہدیدار نے بتایا کہ ہم نے فیشن ڈیزائنر کے معذرت کے خط کو قبول کر لیا ہے کیونکہ یہ نیک نیتی پر مبنی تھا۔

رپورٹس کے مطابق ڈیزائنر زیدی لوکی نے لامو کی اس تاریخی مسجد کو فروغ دینے کے لئے یہ شرٹ تیار کی تھی۔ یاد رہے کہ لامو یونیسکو کا عالمی ثقافتی ورثہ ہے اور 19 ویں صدی میں ریاض مسجد سیاحوں کا ایک خاص مرکز رہا ہے۔ اس مسجد میں 1837 کی مخطوطات بھی موجود ہیں، اور یہ مشرقی افریقہ میں سب سے قدیم اسلامی تعلیمی اداروں میں سے ایک ہے۔

ریاض مسجد و اسلامک سنٹر کے سیکریٹری جنرل ابوبکر بدوی نے بتایا کہ جے زیڈ کو مسجد کی تصویر والی ٹی شرٹ پہنے دیکھ کر نمازی ناراض ہو گئے تھے۔ جے زیڈ کو کیلیفورنیا کے علاقے سانتا مونیکا میں یہ شرٹ پہنے ہوئے اس وقت دیکھا گیا جب وہ ایک ریستوران سے نکل رہے تھے۔

بدوی نے کہا بہت سارے لوگ اس پر ناراض تھے اور ان کا خیال تھا کہ مسجد کی انتظامیہ اس معاملے میں ملوث ہے۔ اس اظہار ناراضگی کی وجہ سے شرٹ بنانے والی کمپنی کے سی ای او لوکی کو ایک عوامی خط لکھا گیا۔ اس خط میں کہا گیا ہے کہ نمازی جے-زیڈ کی بلیک بورڈ جینز کی شرٹ پہنی ہوئی تصویر سے ناراض ہیں جس میں ریاض مسجد کی تصویر موجود ہے۔ انہوں نے مزید کہا جب یہ شرٹ کلبوں یا اس طرح کی دیگر جگہوں پر جاتی ہے تو اس سے توہین ہوتی ہے۔

بدوی نے کہا کہ اس کے بعد انہیں لوکی کی طرف سے ایک خط موصول ہوا ہے، جس میں اس نامناسب ڈیزائن کو ختم کرنے کا وعدہ کیا گیا ہے۔ بدوی نے میڈیا کو بتایا کہ مسجد کے عہدے دار معذرت سے مطمئن ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں بردبار اور روادار رہنے کی ضرورت ہے۔

پیغام میں شرٹ بنانے والی کمپنی کے سی ای او لوکی نے کہا کہ ہمارا ارادہ اچھا تھا، ہم لوگوں کو عالمی تاریخ کے بارے میں آگاہی فراہم کرنا چاہتے تھے، اس میں ایک QR کوڈ تھا جو لامو کے بارے میں تاریخی معلومات درج تھیں۔ لامو کی ریاض مسجد مشرقی افریقہ میں سب سے قدیم اسلامی تعلیمی اداروں میں سے ایک ہے، اس میں 1837 کے قیمتی قدیمی نسخے موجود ہیں۔ یہ مسجد لامو کے سب سے اہم پرکشش مقامات میں شامل ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں