”احتساب کا منترہ پٹ گیا ہے“

مسلم لیگ ن پنجاب کے صدر اور ایم این اے رانا ثناءاللہ نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ پیپلز پارٹی اور اے این پی پی ڈی ایم کے ساتھ رہے یا الگ، 26 نقاط سے کوئی انحراف نہیں کر سکتا۔

انہوں نے کہا عوامی حاکمیت کے لیے شفاف انتخابات ضروری ہیں، ان کے پاس جھوٹ کے سوا کچھ نہیں ہے، احتساب کا منترہ پٹ گیا ہے، انہوں نے 3ہزار ارب وصولی کرنی تھی کہاں ہیں وہ پیسے؟ نواز اور شہباز پر ایک دھیلے کی کرپشن ثابت نہیں کر سکے، این اے 75 میں عوام نے نواز شریف کے بیانیے کو ووٹ دیا اور ووٹ کی حفاظت کی، ہم پر تشدد طریقوں کی مذمت کرتے ہیں، یہ طریقہ کس نے اختیار کیا، کنٹینر پر کھڑا ہو کر کہتے تھے لاہور فیصل آباد بند کر دوں گا یہ کون کہتا تھا؟

رانا ثناء اللہ نے کہا سعد رضوی بھی سمجھتے ہیں ملک بند کر کے وہ بھی وزیر اعظم بن سکتے ہیں، اپوزیش کا رویہ ذمہ دارانہ ہے حکومت کو اس کی پذیرائی کرنی چاہیے تھی، سیاسی جماعتوں کو رواداری کا ثبوت دینا چاہیے، سلیکشن کے خلاف ہیں خواہ کسی کی ہو، ملک آگے نہیں بڑھے گا جب تک سلیکشن کا عمل ختم نہیں ہوتا، پارٹیوں کو توڑنے ووٹ توڑنے کا عمل ختم ہونا چاہیے، انہوں نے معیشیت کو تباہ کر دیا ایڈہاک پر وزیر خزانہ لگا دیا ہے، سعد رضوی کو سمجھنا چاہیے جلاو گھیراؤ کا داؤ اب نہیں لگنا، آپ نے ہمیں اور پورے ملک کو خراب کیا۔

اس سے قبل احتساب عدالت نے رانا ثنا اللہ کے ضمانتی مچلکے منظور کر لیے، رانا ثناءاللہ نے پچاس پچاس لاکھ کے دو مچلکے جمع کرائے ، لاہور ہائیکورٹ نے آمدن سے زائد اثاثوں کے کیس میں رانا ثناءاللہ کی ضمانت کنفرم کی تھی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں