راؤل کاسترو کمیونسٹ پارٹی کی قیادت سے سبکدوش ہوگئے

راؤل کاسترو نے کیوبا کی کمیونسٹ پارٹی کی قیادت سے استعفیٰ دینے کا اعلان کیا، اس طرح کاسترو خاندان کے 6 دہائیوں پر محیط دورِ اقتدار کا خاتمہ ہو گیا۔

89 سالہ کاسترو نے کہا کہ وہ پارٹی کی قیادت کو نوجوان نسل کے حوالے کردیں گے، چار روزہ پارٹی کانگریس کے اختتام پر جانشین کا انتخاب کیا جائے گا۔ اگرچہ کاسترو نے جانشین کے نام کا اعلان نہیں کیا ہے تاہم  یہ بڑے پیمانے پر خیال کیا جارہا ہے کہ پارٹی کی قیادت میگول ڈیاز کینیل کے پاس جائے گی، جنہوں نے 2018 میں ملک کے صدر کا عہدہ سنبھالا تھا۔

یاد رہے کہ راؤل نے 2011 میں اپنے بڑے بھائی فیڈل کاسترو کی جگہ لینے کے بعد سے ہی کمیونسٹ پارٹی کے سیکرٹری جنرل کی حیثیت سے خدمات سرانجام دیں ہیں۔ راؤل  کاسترو کے مستعفی ہونے سے 1959ءکے انقلاب سے شروع ہونے والی کاسترو خاندان کی باضابطہ قیادت کا دور ختم ہو جائے گا۔

یاد رہے کہ راؤل کاسترو، کیوبا کے انقلابی رہنماء فیڈل کاسترو کے بھائی ہیں جنہوں نے 1959 میں کیوبا کی حکومت کا خاتمہ کیا تھا جبکہ راؤل کا شمار انکے ساتھیوں میں کیا جاتاہے۔ فیڈل کاسترو 2006 میں بیمار ہو گئے تھے اور 2008 میں انہوں نے ملک کی صدارت اپنے بھائی کے حوالے کر دی تھی۔ فیڈل کاسترو کا انتقال سن 2016 میں ہوا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں