عمران خان کی لانچنگ سے آج تک عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکی گئی،شرجیل میمن

12:47 PM, 16 May, 2024

ویب ڈیسک: پیپلزپارٹی کے سینئر رہنما شرجیل انعام میمن نے الزام عائد کیا ہے کہ عمران خان کی لانچنگ سے آج تک عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکی جارہی ہے۔

تفصیلات کے مطابق شرجیل انعام میمن نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اپنے بیان میں کہا ہے کہ وفاقی حکومت نے پیٹرول کی قیمتوں میں کمی کی ہے جو کہ خوش آئند بات ہے۔ جب پیٹرول کے ریٹ بڑھائے گئے تھے ہم نے بس کے کرایوں میں اضافہ نہیں کیا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ ہمارا مقصد عوام کو ہر صورت ریلیف دینا ہے۔ حکومت نے اورنج لائن بی آر ٹی عبدالستار ایدھی کے نام سے منسوب کی ہے۔ ہماری کوشش ہے ٹرانسپورٹ سیکٹر کو مزید بہتر کیا جا سکے۔ نئی بسیں شروع کی ہیں۔ نئے روٹس بھی شروع کریں گے۔

حکومت سندھ عبدالستار ایدھی، اورنج لائن بی آر ٹی کو گرین لائن سے جوڑنے جا رہی ہے۔ اورنج لائن کے مسافر بی آر ٹی اسٹیشن پر اتریں گے اور پیدل پل کراس کر کے گرین لائن میں بیٹھ جائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ کل جو کے پی کے میں ہوا یہ چھوٹی سوچ والے افراد اس طرح کر سکتے ہیں۔ بانی پی ٹی آئی چھوٹی سوچ کا شخص ہے۔ بانی پی ٹی آئی نے کبھی برداشت نہیں سکھائی۔ اسلام آباد میں گورنر کے لیے دروازے بند کر دیے گئے۔ اس سے زیادہ گری ہوئی حرکت کوئی نہیں ہو سکتی۔ عمران خان نے کبھی سمجھداری والا کام نہیں کیا۔ عمران خان نے قوم کو انتشار کی سیاست سکھائی ہے۔

شرجیل انعام میمن نے کہا کہ لاء اینڈ آرڈر کی صورتحال کو لے کر حکومت سندھ سنجیدہ ہے۔ اسٹریٹ کرائم میں بہتری آئی ہے۔ پورے پاکستان میں منشیات کے خلاف ایسی مہم نہیں چلی جیسے سندھ حکومت نے چلائی۔ ہم نے بڑے بڑے منشیات فروش گرفتار کیے۔ بہت سے لوگ گینگ کو باہر سے بیٹھ کر چلا رہے ہیں۔ پی پی کی حکومت سندھ میں رہے گی تو منشیات کا صوبے سے نام مٹا دیں گے۔

پی پی رہنما نے کہا کہ بری چیز کا برا نتیجہ ہوتا ہے۔ جو غلط چیز معاشرے میں پیدا کرتا ہے وہ آگے چل کر اس کے گلے بھی پڑتی ہے۔ کےپی کے حکومت کو معافی مانگنی چاہیے۔ سیاستدان آسان ترین فٹبال ہے، جس کا جی کرتا ہے لات مارتا ہے۔ 

انہوں نے بتایا کہ بانی پی ٹی آئی کی لانچنگ سے آج تک عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکی جا رہی ہے۔ ایک ماسٹر پلان کہیں بنایا گیا جس کے تحت اس کو چلایا جا رہا ہے۔ عمران خان پرویز مشرف کے ریفرنڈم میں ڈکٹیٹر کو ووٹ کرتا ہے۔ لاہور میں جلسہ ہوا، بچہ بچہ جانتا ہے کہ لوگ کہاں سے گئے۔

مزیدخبریں