اے، او لیول کے امتحانات کی منسوخی کی درخواستیں مسترد

اسلام آباد ہائیکورٹ نے اے اور او لیولز کے طلبا کی فزیکل امتحانات کے خلاف دائر درخواست مسترد کر دی۔ عدالت نے درخواست ناقابل سماعت قرار دے دی۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ عدالت نے کبھی این سی او سی کے پالیسی فیصلوں میں مداخلت نہیں کی، ویسے بھی 9 پٹشنر ہزاروں طلبہ کے نمائندے نہیں ہو سکتے۔

کورونا کی وجہ اے اور او لیول کے طلبا کی فزیکل امتحانات کے خلاف درخواست پر سماعت اسلام آباد ہائیکورٹ میں ہوئی، درخواست گزار کے وکیل نے موقف اپنایا کہ کیمرج نے دو آپشن دیئے، سعودی عرب، تھائی لینڈ، انڈیا نے فزیکل کی بجائے آن لائن امتحان کے آپشن کو اپنایا ہے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ عدالتوں کا کام نہیں کہ ملک کے پالیسی معاملات میں مداخلت کریں، کہا آج تک کورونا سے متعلق جتنے معاملات آئے ہم نے این سی او سی کے پالیسی فیصلوں میں مداخلت نہیں کی، ویسے بھی حکومت پاکستان کیمرج کو کوئی ہدایت جاری نہیں کر سکتی۔ حکومت صرف ان امتحانات سے متعلق یہاں سہولت فراہم کرتی ہے۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے درخواست گزار کے وکیل سے استفسار کیا ‘کیا آپ چاہتے ہیں حکومت ان کو امتحان لینے سے روک دے؟ آپ کی پٹیشن میں 9 درخواست گزار ہیں، ہو سکتا ہے باقی ہزاروں فزیکل امتحان دینا چاہتے ہوں، 9 پٹشنر ہزاروں طلبہ کے نمائندے تو نہیں ہو سکتے، کیا بچے امتحانات نہیں دینا چاہتے؟

چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے دلائل سننے کے بعد فیصلہ سنا دیا اور درخواست مسترد کر دی۔

دوسری جانب اے، او لیول کے طلباء کی لاہور ہائیکورٹ میں دائر درخواست کا بھی فیصلہ آ گیا، جسٹس جواد حسن نے امتحانات روکنے کی استدعا مسترد کر دی۔

جسٹس جواد الحسن کا کہنا تھا کہ این سی او سی کی جاری گائیڈ لائن کے مطابق وفاقی وزارت نے امتحانات ایس او پیز کے تحت رکھنے کا فیصلہ کیا، امتحانات کے دوران ایس او پیز پر سختی اے عملدرآمد کروایا جائے، عدالتیں بچوں کی نگہبان اور سرپرست ہیں۔

جسٹس جوادالحسن نے کہا عدالت بچوں کے حقوق کا تحفظ کرے گی۔ عدالت میں برطانوی کونسل، کیمبرج کے پاکستان میں ڈائریکٹر اور وفاقی وزارت تعلیم نے اپنا جواب بھی جمع کروایا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں