” وزیر اعظم نے آئی ایم ایف کی ہدایت پر بجلی کے بل بڑھائے “

کراچی (پبلک نیوز) پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف نے عمران خان کو بجلی کے بل بڑھانے کی ہدایت کی اور پی ٹی آئی حکومت نے بجلی مہنگی کرنے کا آرڈیننس جاری کردیا۔ مہنگی بجلی کے صدارتی آرڈیننس اور نیپرا ایکٹ میں ترمیم کے بعد عمران خان عوام کی جیبوں سے 700 ارب روپے سے زائد نکالنے کا منصوبہ بناچکے ہیں۔

بجلی اور گیس کے مہنگے بلوں کے معاملے پر پی ٹی آئی حکومت پر کڑی تنقید کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ عمران خان نے آئی ایم ایف کی ہدایات پر پاکستانی معیشت کو چلاکر ملکی وقار کو ملیامیٹ کردیا ہے۔ پاکستان کے عوام اپنے بجلی اور گیس کے مہنگے بلوں کے ذریعے عمران خان کی آئی ایم ایف ڈیل میں نااہلی کا خمیازہ بھگت رہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ عمران خان کو اپنی جس کارکردگی پر فخر ہوچکا ہے، عوام ہاتھوں میں بجلی اور گیس کے مہنگے بل لئے اس کارکردگی کو ڈھونڈ رہے ہیں۔ آٹھ روپے فی یونٹ پر بجلی کا بل پھاڑدینے والے عمران خان 21 روپے فی یونٹ تک بجلی مہنگی کرکے اپنی کارکردگی کے گن گارہے ہیں

بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ عمران خان کو گرمی اور روزے کی حالت میں مہنگے بل کی وجہ سے ائیرکنڈیشنر چلانے سے گریزاں ایک متوسط طبقے کے گھرانے کے حالات کا کوئی اندازہ نہیں۔ مدینے کی ریاست میں متوسط طبقے کے ایک عام آدمی کی جمع پونجی کیا صرف بجلی اور گیس کے بلوں کی ادائیگی کے لئے صرف ہوگی؟

پارٹی چیئرمین نے بتایا کہ پی ٹی آئی نے مہنگائی کے خلاف ڈی چوک پر دھرنے دلوا کر عوام کو بجلی کے مہنگے بل بھرنے کیلئے بینکوں کی قطار میں کھڑا کروادیا۔ وزیراعظم صاحب، بجلی اور گیس کے بل مہنگا کرنے کی ذمہ دار پچھلی حکومتیں نہیں بلکہ آپ خود ہیں۔ سلیکٹڈ وزیراعظم گیس اور بجلی کے نرخوں میں مسلسل اضافہ کرکے غریب آدمی پر معاشی بم گرانے کے بجائے اپنی جہازی سائز کابینہ کے شاہانہ خرچے کم کریں۔

چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ بجلی اور گیس کے مہنگے بلوں کی صورت میں پاکستان کے عوام تبدیلی کی خوف ناک قیمت ادا کررہے ہیں۔ پی ٹی آئی کی ظالم حکومت کا 300 یونٹ ماہانہ استعمال کرنے والے عام صارفین کیلئے بھی بجلی مہنگی کرنا غریب دشمنی کی انتہا ہے۔

بلاول بھٹو زرداری نے مطالبہ کیا کہ عمران خان کم از کم بجلی کے 300 سے کم یونٹ استعمال کرنے والے عام آدمی کیلئے فی الفور نرخوں میں کمی کا اعلان کریں۔ بجلی اور گیس کی قیمتوں میں غیرمعمولی اضافے نے ملک میں مہنگائی کا سونامی لاکر تباہی مچادی ہے۔

انھوں مزید کہا کہ آج بجلی اور گیس مہنگی ہونے کی وجہ سے بیرون ملک پاکستانی مصنوعات کی مانگ میں کمی سے برآمدات کا شعبہ بھی متاثر ہورہا ہے۔ گیس کی قیمتوں میں ممکنہ اضافہ کھاد کو مہنگا کردے گا جس سے زراعت سے وابستہ ملک کی 43 فیصد افرادی قوت اور جی ڈی پی کا 20 فیصد حصہ متاثر ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں