منیشا روپیتا کی پہلی ہندو خاتون ڈی ایس پی بننے کی کہانی ؟

کراچی ( پبلک نیوز) پاکستان کی پہلی ہندو خاتون ڈی ایس پی منیشا روپیتا نے کہا ہے کہ پاکستانی عوام کی ردعمل میری خواہشات کے برعکس بہت پرجوش نکلا ٗ میری کمیونٹی کی طرف سے بھی مثبت ردعمل سامنے آیا ٗ میرا خاندان نے ہمیشہ میرا ساتھ دیا ٗ پورے سندھ اور پاکستان بھر سے لوگوں نے بہت خوشی کا ا ظہار کیا ٗ پولیس مجھے بہت طاقتور کیرئیر لگتا ہے خاص طور پر خواتین کیلئے۔

جیکب آباد سے تعلق رکھنے والی ہندو برادری کی پاکستان کی پہلی ہندو خاتون ڈی ایس پی بننے والی منیشا روپیتا نے ایک انٹرویو میں کہا کہ میں جانتی ہوں کہ پولیس کی نوکری بہت مشکل ہے ٗلیکن میں نے یہ ہمیشہ چاہا کہ میں پولیس میں آئوں ٗ پولیس کے محکمہ میں بہت سی خواتین نے بہادری کی مثالیں قائم کی ہیں تو میں کیوں ایسا نہیں کر سکتی تھی ٗ ہم چار بہنیں ہیں جن میں میں پولیس میں آئی جبکہ باقی بہنیں ڈاکٹر ہیں ٗ جبکہ ہمارا ایک بھائی ہے ٗ اس میں میرے والد نے اہم کردار ادا کیا ۔

انہوں نے کہا کہ جس معاشرے میں خواتین نشانہ ہوں ٗ جن کے کرائم بھی رپورٹ نہیں ہوتے کیونکہ ان کے پاس پولیس سٹیشن تک رسائی نہیں ٗ میں ہمیشہ یہ محسوس کرتی تھی کہ اگر خواتین مظلوم ہیں تو اس کی تفتیش کرنے والی بھی خواتین ہونی چاہیے ٗ اس کے علاوہ میرے خیال میں لڑکیوں کو یہ نہیں بتانا چاہیے کہ کس پروفیشن میں جائیں ٗ وہ ایم بی بی ایس میں جانا چاہیں یا کہیں اور تو ان کو اس کا حق ہونا چاہیے ٗ میں نے یہ وہی باتیں بھی ختم کرنی تھیں ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں